Baaghi TV

جنگ کے باعث روسی تیل برآمدات میں بڑا اضافہ

‎ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث عالمی توانائی مارکیٹ میں بڑی تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جس کے نتیجے میں روس کی خام تیل کی برآمدات اور آمدنی میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
‎غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق روس نے فروری میں تقریباً 9.7 ارب ڈالر کمائے تھے، تاہم مارچ میں یہ آمدنی بڑھ کر 19 ارب ڈالر تک جا پہنچی، جو کہ دوگنا سے بھی زیادہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی میں غیر یقینی صورتحال ہے۔
‎عالمی توانائی ایجنسی کے مطابق مارچ میں روسی خام تیل کی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا، جہاں یومیہ برآمدات 3 لاکھ 20 ہزار بیرل سے بڑھ کر 71 لاکھ بیرل تک پہنچ گئیں۔ اس دوران نہ صرف خام تیل بلکہ اس سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث توانائی کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات نے عالمی مارکیٹ میں قیمتوں کو اوپر دھکیلا، جس کا فائدہ روس کو ہوا۔ بڑھتی ہوئی قیمتوں نے روس کی آمدنی میں غیر معمولی اضافہ کر دیا۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو روس سمیت دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کو مزید فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ درآمد کرنے والے ممالک کو مہنگائی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
‎یہ صورتحال عالمی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے، جہاں توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ مختلف ممالک کی اقتصادی پالیسیوں کو متاثر کر رہا ہے۔

More posts