متحدہ عرب امارات اور چین نے دوطرفہ غیر تیل تجارت کو 100 بلین ڈالر سے زائد تک پہنچانے کے مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے 24 سٹریٹیجک معاہدوں پر دستخط کیے ہیں،جو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے میں ایک اور قدم ہے۔
یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے، سرمایہ کاری میں اضافے اور تکنیکی تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے، جس کا مقصد تجارتی حجم کو بلند ترین سطح پر لانا ہے ان معاہدوں کا اعلان ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زید النہیان کے سرکاری دورے کے ساتھ بیجنگ میں منعقدہ یو اے ای-چین بزنس پروموشن کانفرنس کے دوران کیا گیا، جو ایک سینئر وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔
متحدہ عرب امارات اور چین کے درمیان شراکت داری پچھلی دہائی کے دوران مسلسل بڑھی ہے، جس کی حمایت بڑھتے ہوئے تجارتی حجم اور سیکٹر کے روابط میں توسیع سے ہوئی ہے،خارجہ تجارت کے وزیر ڈاکٹر تھانی بن احمد الزیودی نے کہا کہ تعلقات ترقی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئے ہیں-
قبل ازیں چینی وزیر خا رجہ وانگ ای نے بیجنگ میں متحدہ عرب امارات کے صدر کے چینی امور کے خصوصی ایلچی خالدون المبارک سے ملاقات کی ۔خالدون المبارک متحدہ عرب امارات کی ریاست ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کے دورہ چین میں ان کے ہمراہ ہیں ۔ پیر کے روز وانگ ای نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی حکمت عملی کی رہنمائی میں ، چین اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات ترقی کی جانب گامزن رہیں گے ۔انہوں نے کہا کہ ریاست ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد کا یہ دورہ دونوں ممالک کے تعلقات کے لئے ایک اہم دورہ ہے۔
وانگ ای نے اس یقین کا اظہار کیا کہ دونوں فریقوں کی مشترکہ کوششوں سے یہ دورہ کامیاب ہوگا۔چینی وزیر خارجہ نے مشرق وسطی کے موجودہ حالات پر چینی موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ چین خلیجی عرب ممالک کی جائز حفاظتی تشویش کو مکمل طور پر سمجھتا ہے اور متحدہ عرب امارات کی قومی خود مختار ی، سلامتی اور جائز حقوق کے تحفظ کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنا بین الاقوامی برادری کے مشترکہ مفاد کے مطابق نہیں ہے، اور مسئلہ کے حل کا بنیادی طریقہ سیاسی اور سفارتی ذرائع سے مکمل اور دیرپا جنگ بندی کا حصول ہے ۔
وانگ ای نے کہا کہ چین ہمیشہ امن کے قیام اور جنگ روکنے میں سرگرم رہا ہے، اور دیگر ممالک بشمول متحدہ عرب امارات کے ساتھ مل کر مشرق وسطی کے حالات کو جلد از جلد امن اور استحکام کی جانب واپس لانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کو تیار ہے-
