بھارت کی نام نہاد خارجہ پالیسی ناکام، امریکا نے بھارت کو روسی تیل خریدنے کیلئے دی گئی پابندیوں میں رعایت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔
بھارتی میڈیا این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مودی سرکار کا عوامی مفادات پسِ پشت ڈال کر امریکی دباؤ قبول کرنا بھی بے کار ثابت ہوا اور روسی تیل سے متعلق امریکی پالیسی میں تبدیلی سے اب بھارت کو توانائی کے شعبے میں نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔رپورٹ کے مطابق روسی تیل کی خریداری پر امریکا کی رعایت نے بھارت کو تیل سپلائی میں خلل کے باوجود اضافی ذخائر حاصل کرنے کا موقع دیا تھا اور بھارتی ریفائنریوں نے تقریباً 3 کروڑ بیرل روسی تیل کے آرڈرز دے رکھے ہیں مگر اب اچانک امریکی وزیر خزانہ نے اعلان کیا ہے کہ بھارت کے مخصوص مدت تک کیے گئے معاہدے اپنی میعاد پوری کر چکے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اب بھارت کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے متبادل حکمت عملی اپنانا پڑے گی اور عالمی منڈی میں تیل کی صورتحال بھی اس پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
