امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنگ بندی میں توسیع کے لیے کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکا ایران پر حملے جاری رکھے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدھ کی شام تک کی ڈیڈ لائن انتہائی اہم ہے اور اس کے بعد حالات کسی بھی سمت جا سکتے ہیں۔
سی این بی سی کے پروگرام میں ٹیلیفونک گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ اس مؤقف کے ساتھ آگے بڑھنے کو بہتر سمجھتے ہیں کہ امریکا حملوں کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی فوج مکمل طور پر تیار ہے اور کسی بھی کارروائی کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کے دور میں امریکی فوج کی مضبوطی کا بھی ذکر کیا اور اسے غیر معمولی قرار دیا۔
صدر ٹرمپ نے اس بات کا بھی عندیہ دیا کہ وہ جنگ بندی میں مزید توسیع کے حق میں نہیں ہیں اور یہ انتہائی کم امکان ہے کہ ڈیڈ لائن آگے بڑھائی جائے۔ ان کے مطابق اب فیصلہ کن وقت آ چکا ہے اور یا تو کوئی بڑا معاہدہ ہوگا یا صورتحال مزید کشیدہ ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور دیگر اعلیٰ حکام آج پاکستان پہنچنے کا امکان رکھتے ہیں جہاں ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے اہم بات چیت کی جائے گی۔ ان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ایک بڑی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کا سخت لہجہ اور فوجی آپشن پر زور دینا دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی بھی ہو سکتی ہے، تاکہ مذاکرات میں بہتر نتائج حاصل کیے جا سکیں۔ تاہم اس سے خطے میں خطرات بھی بڑھ سکتے ہیں۔
موجودہ صورتحال نہایت حساس ہے جہاں ایک طرف سفارتی کوششیں جاری ہیں جبکہ دوسری طرف ممکنہ فوجی کارروائی کے خدشات بھی موجود ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اب آنے والے چند گھنٹوں پر مرکوز ہیں۔
ٹرمپ کا عندیہ، معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر حملے جاری رہیں گے
