نومنتخب وزیراعظم پیٹر میگیار نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت پیغام دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ہنگری کا رخ کرتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا۔ اس بیان نے عالمی سطح پر سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیٹر میگیار نے اپنے ایک واضح اور دو ٹوک بیان میں کہا کہ ان کی حکومت بین الاقوامی قوانین کی مکمل پاسداری کرے گی اور کسی بھی عالمی عدالتی حکم کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ عالمی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے، چاہے معاملہ کسی بھی ملک یا عالمی رہنما سے متعلق کیوں نہ ہو۔
ہنگری کے وزیراعظم نے نیتن یاہو کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ہنگری میں داخل ہوئے تو انہیں قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی حکومت عالمی عدالت کے فیصلوں اور اصولوں کو اولین ترجیح دے گی اور اس معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ہنگری کا یہ مؤقف یورپی سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کا عندیہ دے رہا ہے۔ خاص طور پر یورپی یونین کے اندر خارجہ پالیسی کے حوالے سے نئے زاویے سامنے آ سکتے ہیں، جس کے اثرات مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی پڑنے کا امکان ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو غزہ میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے باعث عالمی سطح پر تنقید اور قانونی دباؤ کا سامنا ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں میں ان کے خلاف مقدمات اور تحقیقات جاری ہیں، جس کی وجہ سے ان کے غیر ملکی دوروں پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ہنگری کے وزیراعظم کی نیتن یاہو کو گرفتاری کی دھمکی
