اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایراوانی نے واضح کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی ختم کی جاتی ہے تو ایران اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات میں شرکت پر آمادہ ہو سکتا ہے۔
اپنے تازہ بیان میں ایرانی سفیر نے کہا کہ تہران کو ایسے اشارے موصول ہوئے ہیں کہ امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے پر غور کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت کی صورت میں مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ناکہ بندی کا خاتمہ ہی مذاکرات کی بحالی کے لیے بنیادی شرط ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کسی بھی قسم کے مذاکرات میں اس وقت تک شامل نہیں ہوگا جب تک خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، جن میں سب سے اہم آبنائے ہرمز میں امریکی پابندیوں اور ناکہ بندی کا خاتمہ ہے۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے دعویٰ کیا ہے کہ ناکہ بندی کے نفاذ کے بعد سے ایرانی بندرگاہوں کی جانب آنے اور جانے والے کم از کم 28 جہازوں کو واپس بھیجا جا چکا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا۔ادھر امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے بعض بحری جہاز امریکی ناکہ بندی کو توڑتے ہوئے آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں، جو اس کشیدگی میں مزید اضافہ کا باعث بن سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تجارت، خصوصاً تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے، اور یہاں کسی بھی قسم کی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
