چمن کے علاقے کلی حسن ٹھیکیدار میں کانگو وائرس کا کیس سامنے آنے کے بعد محکمہ صحت نے فوری الرٹ جاری کر دیا ہے، جس کے باعث مقامی آبادی میں تشویش کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق 11 سالہ بچی فرشتہ میں خطرناک وائرس کی علامات ظاہر ہوئیں، جس کے بعد اسے فوری طور پر فاطمہ جناح اسپتال کوئٹہ منتقل کر دیا گیا جہاں اسے خصوصی طبی نگرانی میں رکھا گیا ہے۔
محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ بچی کی حالت پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ابتدائی معلومات کے مطابق وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ مویشیوں کے ذریعے ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے بعد علاقے میں احتیاطی اقدامات بڑھا دیے گئے ہیں۔
علاقے میں خبر پھیلتے ہی شہریوں میں خوف و ہراس بڑھ گیا ہے۔ مقامی افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ لائیوسٹاک ڈیپارٹمنٹ فوری طور پر متحرک ہو اور مویشی منڈیوں سمیت متاثرہ علاقوں میں جراثیم کش اسپرے کیا جائے تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
دوسری جانب سندھ میں بھی کانگو وائرس سے ایک افسوسناک واقعہ رپورٹ ہوا جہاں 17 سالہ نوجوان جاں بحق ہو گیا۔ محکمہ صحت کے مطابق متاثرہ نوجوان سندھ انفیکشن ڈیزیز اسپتال میں زیر علاج تھا اور اس میں گزشتہ روز وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ نوجوان مویشیوں کی دیکھ بھال سے وابستہ تھا، جہاں سے وائرس منتقل ہونے کا امکان ہے۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کانگو وائرس عموماً چیچڑی کے کاٹنے یا متاثرہ جانور کے خون کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے، جو بعد ازاں جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔ عیدِ قربان کے قریب آتے ہی اس وائرس کے پھیلنے کا خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے۔
چمن میں کانگو وائرس کا کیس، محکمہ صحت الرٹ
