Baaghi TV

ایران امریکا کشیدگی، تیل مہنگا اور عالمی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار

ind

‎امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات میں غیر یقینی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور اسٹاک مارکیٹس پر بھی ظاہر ہو رہے ہیں۔
‎تازہ اعداد و شمار کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 103 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے، جبکہ ڈبلیو ٹی آئی خام تیل بھی تقریباً 95 ڈالر فی بیرل کی سطح پر ٹریڈ ہوتا دیکھا گیا۔ ماہرین کے مطابق مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات کو بڑھا دیا ہے، جس کے باعث قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔
‎دوسری جانب عالمی اسٹاک مارکیٹس میں ملا جلا رجحان سامنے آیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی جہاں ہنڈرڈ انڈیکس 1,907 پوائنٹس کمی کے بعد 1 لاکھ 69 ہزار 671 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
‎ایشیا کی دیگر مارکیٹس میں بھی اتار چڑھاؤ جاری رہا۔ ہانگ کانگ کے ہینگ سینگ انڈیکس میں 0.9 فیصد کمی جبکہ جاپان کے نکئی انڈیکس میں 0.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ بھارتی شیئر مارکیٹس میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا، جبکہ جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 0.9 فیصد اضافہ سامنے آیا۔
‎ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی نہ آئی تو تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں، جس سے مہنگائی میں اضافہ اور عالمی معاشی عدم استحکام کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار اس وقت محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں اور کسی بھی بڑی سفارتی پیش رفت کے منتظر ہیں، جو مارکیٹ کے رخ کا تعین کرے گی۔

More posts