جرمنی کے چانسلر فریڈرک مرز نے کہا ہے کہ اگر ایران مذاکرات میں سنجیدگی دکھائے اور کسی سمجھوتے پر آمادہ ہو جائے تو یورپی یونین اس پر عائد پابندیوں میں نرمی کے لیے تیار ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ یورپی رہنماؤں کے حالیہ اجلاس میں اس مؤقف کی کسی نے مخالفت نہیں کی۔
جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ایران کا رویہ غیر سنجیدہ دکھائی دیتا ہے اور اس پر مزید دباؤ بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ اسے مذاکرات کی میز پر مؤثر طریقے سے لایا جا سکے۔ ان کے مطابق سفارتی حل ہی واحد راستہ ہے، لیکن اس کے لیے ایران کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یورپی یونین ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے لیے تیار ہے، تاہم یہ پیش رفت ایران کے رویے اور اقدامات پر منحصر ہوگی۔ ان کے مطابق دباؤ اور مذاکرات کا امتزاج ہی بہتر نتائج دے سکتا ہے۔
روسی یوکرین جنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے فریڈرک مرز نے کہا کہ یوکرین میں جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ بڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یورپ اس معاملے میں اپنا مؤقف تبدیل نہیں کرے گا اور یوکرین کی حمایت جاری رکھے گا۔
چانسلر نے مزید کہا کہ یوکرین کی فوری طور پر یورپی یونین میں شمولیت ممکن نہیں، تاہم اس کے لیے ایک پیشگی رسائی کا طریقہ کار تجویز کیا گیا ہے تاکہ اسے مرحلہ وار یورپی نظام کے قریب لایا جا سکے۔
ایران سمجھوتہ کرے تو پابندیاں نرم ہوسکتی ہیں، جرمن چانسلر
