Baaghi TV


عرب اور مسلم کھلاڑیوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات، فیفا سے مداخلت کا مطالبہ

fifa

‎امریکہ میں عرب اور مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) اور فیفا ورلڈ کپ حکام پر عرب اور مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کے ساتھ امتیازی سلوک کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان رہنماؤں نے فیفا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے کا فوری نوٹس لے اور مساوی سلوک کو یقینی بنائے۔
‎کمیونٹی رہنماؤں کے مطابق ورلڈ کپ جیسے عالمی ایونٹ کا مقصد دنیا بھر کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا ہے، لیکن بعض حالیہ واقعات نے اس جذبے کو متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کئی عرب اور مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد کو ویزوں، داخلے کی اجازت اور اضافی سکیورٹی جانچ کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
‎حال ہی میں صومالیہ سے تعلق رکھنے والے ریفری عمر آرتان کو امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ ملنے کے واقعے نے اس بحث کو مزید شدت دی۔ عمر آرتان کو افریقی فٹبال کے بہترین ریفریوں میں شمار کیا جاتا ہے اور وہ ورلڈ کپ میں خدمات انجام دینے والے پہلے صومالی ریفری بننے والے تھے۔ تاہم امریکہ میں داخلے سے انکار کے بعد وہ ٹورنامنٹ کے آفیشلز کی فہرست سے باہر ہو گئے۔
‎عرب اور مسلم تنظیموں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ مختلف امریکی ہوائی اڈوں پر عرب اور افریقی ممالک کے کھلاڑیوں اور شائقین کو طویل پوچھ گچھ، اضافی جانچ پڑتال اور بعض اوقات داخلے سے انکار جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ ان کے مطابق اس صورتحال نے متعلقہ کمیونٹیز میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
‎امریکی عرب اینٹی ڈسکریمینیشن کمیٹی کی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر درست سفری دستاویزات رکھنے والے افراد کو بھی مشکلات کا سامنا ہو تو اس سے نہ صرف بنیادی شہری آزادیوں پر سوالات اٹھتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کے تشخص کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
‎عرب امریکن چیمبر آف کامرس کے عہدیداروں نے بھی اس طرز عمل کو کھیلوں کے جذبے کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ 2022 میں قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ کے دوران مختلف ممالک کے شرکاء کے ساتھ مساوی سلوک کیا گیا تھا اور سیاست کو کھیل سے الگ رکھا گیا تھا۔
‎کمیونٹی رہنماؤں نے فیفا صدر جیانی انفانٹینو سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے پر کھل کر مؤقف اختیار کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کو بلا امتیاز شرکت کا موقع ملے۔

More posts