امریکی محکمہ موسمیات اور سمندری امور کی جانب سے جاری نئی رپورٹ میں اعلان کیا گیا ہے کہ ایل نینو کا آغاز ہو چکا ہے اور اس کے آئندہ مہینوں میں مزید شدت اختیار کرکے "سپر ایل نینو” بننے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال دنیا بھر میں موسم کے معمولات کو متاثر کر سکتی ہے اور عالمی درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
ایل نینو بحرالکاہل کے استوائی خطے میں پیدا ہونے والا ایک قدرتی موسمی نظام ہے جس کے دوران سمندر کے وسطی اور مشرقی حصوں کا پانی معمول سے زیادہ گرم ہو جاتا ہے۔ سمندری درجہ حرارت اور ہواؤں میں آنے والی یہ تبدیلیاں دنیا کے مختلف خطوں میں بارشوں، خشک سالی، سیلاب اور گرمی کی شدت پر اثر انداز ہوتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اس بار ایل نینو کے انتہائی طاقتور ہونے کا امکان 63 فیصد ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 1950 کے بعد ریکارڈ کیے گئے مضبوط ترین ایل نینو واقعات میں شامل ہو سکتا ہے۔ ادارے نے یہ بھی پیش گوئی کی ہے کہ یہ موسمی نظام موسم خزاں تک یقینی طور پر برقرار رہے گا اور سردیوں میں بھی اس کے جاری رہنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق سپر ایل نینو قرار پانے کے لیے بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے دو ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بڑھنا ضروری ہوتا ہے۔ جدید کمپیوٹر ماڈلز اشارہ دے رہے ہیں کہ اس مرتبہ درجہ حرارت اس حد سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران بحرالکاہل کے مغربی حصے سے غیر معمولی گرم پانی مشرقی علاقوں کی جانب منتقل ہو رہا ہے۔ یہ گرم پانی سمندر کی گہرائیوں سے سطح کی طرف ابھر رہا ہے، جس کے نتیجے میں جنوبی امریکہ کے قریب سمندری درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ سپر ایل نینو کے واقعات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔ اس سے قبل 2015-16، 1997-98 اور 1982-83 میں انتہائی طاقتور ایل نینو ریکارڈ کیا گیا تھا جس نے دنیا بھر میں شدید موسمی تبدیلیاں پیدا کی تھیں۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایل نینو سمندروں کی بڑی مقدار میں حرارت فضا میں منتقل کرتا ہے، جس سے پہلے سے موجود عالمی حدت میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے ماہرین کا خیال ہے کہ 2027 دنیا کی تاریخ کا گرم ترین سال بن سکتا ہے اور 2024 کے درجہ حرارت کا ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔
سپر ایل نینو کا آغاز، دنیا مزید شدید گرمی کی لپیٹ میں آنے کا امکان
