پنجاب میں بلدیاتی انتخابات غیرجماعتی بنیادوں پر کرانے کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست کی سماعت ہوئی، عدالت نے درخواست گزاروں کو ایکٹ کو غیر قانونی جیسے الفاظ کہنے سے روک دیا۔
عدالت کا کہنا تھا کہ اگر ایسے الفاظ کا استعمال کرنا ہے تو کسی دوسری عدالت میں جائیں، جسٹس سلطان تنویر نے کہا کہ کوئی شخص برا نہیں ہوتا،ہر چیز میں اچھائی ہوتی ہے۔پنجاب حکومت کے وکیل نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی کاپی عدالت میں پیش کردی۔ عدالت نے سوال کیا کہ کیا چیئرمین اور وائس چیئرمین ڈائریکٹ عوام نے منتخب کرنے ہیں؟۔ وکیل نے بتایا کہ آئین میں الیکٹڈ کا لفظ ہے، چیئرمین سینٹ، اسپیکر، وزیراعظم منتخب ہوتا ہے۔عدالت نے پنجاب حکومت کے وکیل سے پوچھا کہ میئر کو کس نے منتخب کرنا ہے؟، وکیل نے جواب دیا کہ میئر کو چیئرمینز منتخب کریں گے۔
عدالت نے سوال اٹھایا کہ یہ کیسے الیکشن ہوا، جس میں چیئرمین کو ووٹ عوام نے براہ راست نہیں دیا، آپ دوسری سائیڈ کو سنیں یا ساری سیاسی جماعتیں بیٹھ جائیں اور ملکر اتفاق رائے کرلیں۔
