ایران جنگ کے معاشی اثرات اب عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں اور اسی تناظر میں ملائیشیا نے ایک بڑا مالیاتی فیصلہ کرتے ہوئے تمام وزارتوں کے بجٹ میں کٹوتی کا حکم دے دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ اقدام بڑھتے ہوئے مالی دباؤ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث کیا گیا ہے۔
ملائیشیا کی وزارت خزانہ کی جانب سے جاری ہنگامی ہدایت نامے میں تمام سرکاری اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سال 2026 کے اپنے آپریٹنگ بجٹ میں فوری کمی کریں۔ حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس لیے ضروری ہو گیا ہے کیونکہ ملک کو بڑھتے ہوئے اخراجات اور غیر یقینی معاشی حالات کا سامنا ہے۔
محکمہ خزانہ کے سیکریٹری جنرل نے خبردار کیا ہے کہ ملک کا سبسڈی بل 58 ارب رنگٹ سے تجاوز کر سکتا ہے، جو کہ حکومتی اندازوں سے کہیں زیادہ ہے۔ حکومت نے اس بات کا اعتراف بھی کیا ہے کہ سبسڈی کے لیے مختص بجٹ سے زیادہ اخراجات ہو رہے ہیں، جس نے مالیاتی توازن کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے نے ملائیشیا کی معیشت پر براہ راست اثر ڈالا ہے۔ چونکہ ملائیشیا بھی توانائی کے شعبے میں عالمی منڈی سے جڑا ہوا ہے، اس لیے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ نے اس کے مالیاتی منصوبوں کو متاثر کیا ہے۔
ایران جنگ کے اثرات، ملائیشیا نے سرکاری بجٹ میں کٹوتی کر دی
