امریکی شہر لاس اینجلس کے پوش علاقے ہالی ووڈ ہلز میں قائم ایک انتہائی خفیہ اور مہنگے نجی کلب کی سرگرمیوں نے ایک بار پھر توجہ حاصل کر لی ہے، جہاں ایک صحافی کی شرکت نے نہ صرف اس کی ذاتی سوچ کو بدل دیا بلکہ اس قسم کی تقریبات کے بارے میں نئی بحث بھی چھیڑ دی ہے۔
یہ کلب، جو 2013 میں بیورلی ہلز میں قائم کیا گیا تھا، ایک نجی ممبرشپ پر مبنی ادارہ ہے جہاں مخصوص افراد کو ہی شرکت کی اجازت دی جاتی ہے۔ یہاں ہونے والی تقریبات میں ماسکریڈ (نقاب پوش) پارٹیاں، پُرتعیش ڈنرز اور خصوصی سوشل ایونٹس شامل ہوتے ہیں، جن کا مقصد شرکاء کو ایک مختلف اور آزاد ماحول فراہم کرنا بتایا جاتا ہے۔کلب میں داخلے کے لیے نہ صرف بھاری سالانہ فیس ادا کرنی پڑتی ہے بلکہ ایک سخت جانچ پڑتال کے عمل سے بھی گزرنا ہوتا ہے۔ ممبرشپ فیس ہزاروں ڈالرز سے لے کر ایک لاکھ ڈالر سے زیادہ تک ہو سکتی ہے۔ تقریب میں شریک افراد کے موبائل فون دروازے پر ہی جمع کرا لیے جاتے ہیں تاکہ مکمل رازداری برقرار رکھی جا سکے۔
صحافی کے مطابق تقریب ایک پُرتعیش حویلی میں منعقد ہوئی جہاں داخل ہوتے ہی ایک منفرد ماحول محسوس ہوا۔ ہلکی روشنی، موسیقی اور آرٹسٹک انداز میں ترتیب دی گئی سرگرمیوں نے اسے ایک عام پارٹی سے مختلف بنا دیا۔ مہمان مختلف عمر کے افراد پر مشتمل تھے اور سب کو مکمل آزادی دی گئی تھی کہ وہ اپنی حدود کے مطابق شرکت کریں۔اس کلب کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کے سخت اصول ہیں، جن میں باہمی رضامندی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ کسی بھی قسم کے جسمانی یا ذاتی تعامل سے پہلے واضح اجازت ضروری ہوتی ہے، جس سے شرکاء خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
صحافی کا کہنا تھا کہ ابتدا میں یہ تجربہ عجیب اور مشکل محسوس ہوا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ اس نے خود کو زیادہ پُراعتماد اور کھلا ہوا محسوس کیا۔ اس کے مطابق اس ماحول نے نہ صرف اس کے اپنے جذبات کو سمجھنے میں مدد دی بلکہ اس کے اپنے شریکِ حیات کے ساتھ تعلق میں بھی ایک نئی گہرائی پیدا کی۔
کلب کی تخلیقی ڈائریکٹر کے مطابق اس قسم کی تقریبات کا مقصد صرف تفریح نہیں بلکہ انسان کو اپنی ذات کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ ان کے مطابق بہت سے لوگ اپنی خواہشات اور احساسات کو قبول نہیں کرتے، جس کی وجہ سے ذہنی دباؤ اور عدم اطمینان پیدا ہوتا ہے۔اگرچہ اس طرح کے کلبز کو کچھ حلقوں میں آزادی اور خود اظہار کا ذریعہ سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقدین اسے اخلاقی حدود سے تجاوز قرار دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے رجحانات پر معاشرتی اور نفسیاتی اثرات کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
