پاکستان کی جانب سے حالیہ کامیاب تجربہ، FATEH-II گائیڈڈ میزائل کا، جنوبی ایشیا میں روایتی ڈیٹرنس (deterrence) میں ایک اہم پیش رفت کی نشاندہی کرتا ہے۔ اپنی بڑھائی گئی رینج، اعلیٰ درستی (precision) اور maneuverability کے باعث یہ نظام روایتی توپ خانے سے نکل کر پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت کی جانب ایک واضح نظریاتی تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے، جو خطے کے عسکری توازن کو نئی شکل دے رہا ہے۔
FATEH-II: پاکستان کی پریسژن ڈیپ اسٹرائیک صلاحیت
FATEH-II ایک جدید گائیڈڈ راکٹ سسٹم ہے جس کی رینج تقریباً 400 کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے، جو اسے quasi-theatre strike ہتھیاروں کے زمرے میں شامل کرتی ہے۔
روایتی آرٹلری راکٹس کے برعکس، اس میں شامل ہیں
* جدید ایویونکس اور نیویگیشن سسٹمز
* اعلیٰ درجے کی ہدفی درستگی
* میزائل دفاعی نظام سے بچنے کے لیے maneuverable trajectory
یہ نظام پاکستان کے راکٹ آرٹلری کو ایک ایسے پریسژن اسٹرائیک پلیٹ فارم میں تبدیل کرتا ہے جو دشمن کے علاقے کے اندر گہرائی میں موجود اہم اہداف جیسے ایئر بیسز، لاجسٹک مراکز اور کمانڈ سینٹرز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ FATEH-II، ایک قابلِ اعتماد روایتی متبادل فراہم کرکے اسٹریٹجک (جوہری) آپشنز پر انحصار کم کرتا ہے۔
بھارتی نظام: Pinaka اور Pralay
بھارت اس میدان میں دو اہم نظام رکھتا ہے:
1. Pinaka MLRS
* بنیادی طور پر ملٹی بیرل راکٹ لانچر (MBRL) سسٹم
* روایتی طور پر کم رینج، تاہم بھارت 400–500 کلومیٹر تک توسیع شدہ ورژنز پر کام کر رہا ہے
* بنیادی مقصد ایریا سیچوریشن، نہ کہ نقطہ وار درستگی
2. Pralay میزائل
* ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل جس کی رینج 150–500 کلومیٹر ہے
* بھاری وارہیڈ (350–1000 کلوگرام) لے جانے کی صلاحیت
* اہم اسٹریٹجک اہداف جیسے رن ویز اور کمانڈ انفراسٹرکچر کے لیے ڈیزائن کیا گیا
تقابلی جائزہ
خصوصیت FATEH-II (پاکستان) Pinaka (بھارت) Pralay (بھارت)قسم گائیڈڈ راکٹ / quasi-ballistic MLRS (راکٹ آرٹلری) ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل رینج تقریباً 400 کلومیٹر 40–75 کلومیٹر (موجودہ) 150–500 کلومیٹر،درستگی اعلیٰ (گائیڈڈ) کم (ایریا سیچوریشن) اعلیٰ،کردار پریسژن ڈیپ اسٹرائیک میدانِ جنگ سپورٹ اسٹریٹجک روایتی حملہ،موبلٹی زیادہ زیادہ زیادہ
اہم نکات
* FATEH-II بمقابلہ Pinaka:
FATEH-II رینج اور درستگی دونوں میں Pinaka سے واضح طور پر برتر ہے۔
* FATEH-II بمقابلہ Pralay:
Pralay زیادہ طاقتور اور بھاری بیلسٹک میزائل ہے، لیکن FATEH-II لچک، بقا (survivability) اور لاگت کے لحاظ سے بہتر ہے۔
* نظریاتی فرق:
* پاکستان: پریسژن روایتی ڈیٹرنس کی طرف پیش رفت
* بھارت: سیچوریشن (Pinaka) اور بیلسٹک اسٹرائیک (Pralay) کا امتزاج
پاکستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت
1. روایتی ڈیٹرنس کو مضبوط بنانا
FATEH-II پاکستان کو جوہری سطح تک گئے بغیر گہرائی میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت دیتا ہے، جس سے بحران میں استحکام بڑھتا ہے۔
2. کاؤنٹر فورس صلاحیت
یہ درج ذیل اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے:
* ایئر بیسز
* لاجسٹک مراکز
* میزائل سائٹس
3. بقا اور لچک
موبائل لانچ پلیٹ فارمز اور maneuverable پرواز اسے میزائل دفاعی نظام کے خلاف زیادہ محفوظ بناتے ہیں۔
4. کم لاگت پریسژن جنگ
بیلسٹک میزائلز کے مقابلے میں، یہ کم لاگت پر زیادہ حملوں کی صلاحیت فراہم کرتا ہے۔
5. اسٹریٹجک سگنلنگ
یہ نظام تکنیکی صلاحیت اور دفاعی تیاری کا واضح پیغام دیتا ہے۔
نتیجہ
FATEH-II پاکستان کی روایتی اسٹرائیک صلاحیت میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اگرچہ بھارت کا Pralay زیادہ بھاری اور طاقتور ہے، لیکن FATEH-II آرٹلری اور اسٹریٹجک میزائلز کے درمیان خلا کو پُر کرتا ہے اور درستگی، لچک اور قابلِ اعتماد ڈیٹرنس فراہم کرتا ہے۔
جدید جنگ میں طاقت سے زیادہ اہمیت رفتار اور درستگی کی ہو گئی ہے۔ اس میدان میں FATEH-II پاکستان کو ان ممالک کی صف میں لا کھڑا کرتا ہے جو بغیر جوہری حد عبور کیے پریسژن ڈیپ اسٹرائیک کر سکتے ہیں۔
جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن اب صرف جوہری ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اس بات سے طے ہو رہا ہے کہ کون پہلے، تیزی سے اور درست حملہ کر سکتا ہے۔
مصنف کے بارے میں
میجر (ر) ہارون رشید، دفاعی و اسٹریٹجک تجزیہ کار ہیں جو جنوبی ایشیا کی عسکری حرکیات، ڈیٹرنس حکمتِ عملی اور دفاعی جدید کاری پر مہارت رکھتے ہیں، اور Research and Evaluation Cell for Advancing Basic Amenities and Development کے رکن ہیں۔
