Baaghi TV

امریکہ،سب وے نے 700 سے زائد ریسٹورنٹس بند کر دیے

امریکہ میں فاسٹ فوڈ کے شعبے میں بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سب وے نے گزشتہ سال 700 سے زائد ریسٹورنٹس بند کر دیے، جس کے بعد اس کا سب سے بڑا حریف میکڈونلڈ مزید مضبوط پوزیشن میں آ گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق سب وے اب بھی امریکہ میں تقریباً 18,773 ریسٹورنٹس کے ساتھ سب سے بڑا نیٹ ورک رکھتا ہے، جبکہ میکڈونلڈز کے قریب 14,000 آؤٹ لیٹس ہیں۔ تاہم، سب وے کی جانب سے ایک سال میں 729 ریسٹورنٹس کی بندش اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کمپنی گزشتہ ایک دہائی سے مسلسل سکڑاؤ کا شکار ہے۔کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ یہ بندش ایک نئی حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد ایسے مقامات کا انتخاب کرنا ہے جہاں کاروبار طویل مدت تک کامیاب رہ سکے۔ اس کے تحت بہتر لوکیشن، نمایاں موجودگی اور مضبوط آپریشنز پر توجہ دی جا رہی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں سب وے کے امریکہ بھر میں 27 ہزار سے زائد سٹورز تھے، لیکن اب تک 8 ہزار سے زیادہ ریسٹورنٹس بند کیے جا چکے ہیں، جو ایک بڑی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔2024 میں سب وے کو معروف سرمایہ کاری فرم Roark Capital نے تقریباً 9.6 ارب ڈالر میں خرید لیا تھا۔ بعد ازاں کمپنی نے Jonathan Fitzpatrick کو نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر مقرر کیا، جو اس سے قبل برگر کنگ میں اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔مہنگائی کے باعث متاثرہ صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے سب وے نے اپریل میں اپنی پہلی ویلیو مینو متعارف کروائی، جس میں 5 ڈالر سے کم قیمت کے 15 آئٹمز شامل ہیں، جن میں 4.99 ڈالر کے سبس بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔

دوسری جانب میکڈونلڈز بھی سستی اشیاء کی دوڑ میں آگے ہے اور اس نے اپنے “انڈر 3 ڈالر” مینو اور مقبول میل ڈیل کومبوز کے ذریعے صارفین کو اپنی جانب راغب کیا ہے۔مزید برآں، دونوں کمپنیاں نوجوان صارفین کو متوجہ کرنے کے لیے نئے اسپیشلٹی ڈرنکس متعارف کروا رہی ہیں، جس سے فاسٹ فوڈ مارکیٹ میں مقابلہ مزید سخت ہو گیا ہے۔

More posts