گاؤں کی پرانی مسجد کے صحن میں شام ڈھلتے ہوئے آسمان پر سنہری روشنی پھیل رہی تھی اور بچے ہمیشہ کی طرح عادل صاحب کے گرد حلقہ بنائے بیٹھے تھے سوائے حمزہ کے وہ ایک جگہ پرسکون حالت میں براجمان ہونے سے قاصر تھا۔حمزہ جتنا زیادہ شرارتی تھا اس سے کئی گنا زیادہ ذہین تھا۔صحن میں اچھلتے کودتے اسے ایک اخبار ملا وہ اس کا بغور جائزہ لیتے ہوئے ایک لفظ پر اٹک گیا اور کہنے لگا۔
"دادا ابو! بنیان المرصوص کیا ہوتا ہے؟” حمزہ نے معصومیت سے پوچھا۔
عادل صاحب نے اپنی عینک درست کی اور مسکرا کر بولے۔
"بیٹا! بنیان المرصوص کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی دیوار۔ایسی دیوار جس میں دراڑ نہ ہو، جس کی اینٹ سے اینٹ مضبوطی سے جڑی ہوئی ہو۔ قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ:-”
"مومن آپس میں بنیان المرصوص کی مانند ہیں۔”
عائشہ تجسّس بھرے لہجے میں گویا ہوئی۔ "تو کیا ہمارے سپاہی بھی ایسے ہوتے ہیں؟”
عادل صاحب نے گہرا سانس لیا۔ "ہاں بیٹا! جب وطن پر مشکل وقت آتا ہے تو ہمارے سپاہی، ہمارے سائنسدان، ہمارے ڈاکٹر، ہمارے انجینئر سب ایک دیوار بن جاتے ہیں۔ یہی ہے معرکۂ حق بنیان المرصوص۔”
بچوں کی دلچسپی بڑھ گئی۔ دادا ابو نے کہانی شروع کی۔
"بچوں!یہ ان دنوں کی بات ہے جب سرحدوں پر کشیدگی بڑھ گئی تھی۔ دشمن نے یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ ہمیں خوفزدہ کر سکتا ہے۔ مگر وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ یہ وہ قوم ہے جس کے جوانوں نے 1965ء اور 1971ء میں بھی تاریخ رقم کی تھی اور جس کی افواج کا نظم و ضبط دنیا میں مثال سمجھا جاتا ہے۔”
حمزہ حیرت سے کہنے لگا۔
"دادا جان! پھر کیا ہوا تھا؟”
"میرا بڑا بیٹا علی رضا! سرحد پر تعینات ہے لیکن جب اس نے ماں کی آواز فون پر سنی تو اس کی آنکھیں نم ہو گئیں۔وہ اپنی ماں سے کچھ نہیں کہہ سکا۔اس نے مجھ سے بات کی لیکن میں بس اتنا ہی کہہ پایا تھا۔”
"بیٹا!اپنا خیال رکھنا۔”
"بابا! آپ دعا کریں ہم سب مل کر دشمن کو دھول چٹوا دیں گے دشمن کے ارادے خاک میں ملا دیں گے ہم اپنی عرض پاک کے محافظ ہیں۔ دشمن ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پائے گا۔”
سب بچے یکسوئی سے دادا جی کی باتوں سے استفادہ حاصل کر رہے تھے۔
اسی وقت محاذ کے دوسری طرف بری فوج کے جوان مستعد کھڑے تھے۔ پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کی داستانیں نئی نہیں تھیں۔ پاک فوج کے جوانوں کے چہروں پر عزم کی روشنی تھی۔
فضا میں گرج کی آواز گونجی یہ پاک فضائیہ کے شاہین تھے۔
پاک فضائیہ کے پائلٹ آسمانوں میں دشمن کی ہر چال کا جواب دے رہے تھے۔ اسکواڈرن لیڈر سارہ کی آواز ریڈیو پر گونجی جس نے سب کے حوصلے اور بلند کر دیے تھے۔
"ہم تیار ہیں وطن کی حفاظت ہمارا فرض ہے۔”
سمندر کی لہروں میں پاک بحریہ کے جہاز گہرے پانیوں میں مستعد تھے۔ کمانڈر فہد اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا۔
"ہماری نگاہیں ہر سمت ہیں۔ دشمن سمندر کے ذریعے بھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔”
لیکن یہ معرکہ صرف بندوقوں اور جہازوں کا نہیں تھا۔دور ایک خفیہ تحقیقی مرکز میں پاکستانی سائنسدان مصروف تھے۔ وہ دن رات جدید ٹیکنالوجی پر کام کر رہے تھے۔ ڈاکٹر حارث نے اپنی ٹیم کو جوش دلاتے ہوئے کہا۔
"ہماری محنت بھی اسی دیوار میں سنجوئی ہوئی اینٹ کی طرح ہے۔ اگر ہم ان کی ہمت بڑھائیں گے تو سپاہیوں کے حوصلے اور بھی مضبوط ہوں گے۔”
ان سائنسدانوں کو اپنے محسنوں کی یاد تھی۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان جیسے عظیم سائنسدان جنہوں نے پاکستان کو دفاعی لحاظ سے ناقابلِ تسخیر بنایا اور انہیں وہ دن بھی یاد تھے جب ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی قیادت میں قوم نے سائنسی میدان میں اپنی طاقت کا لوہا منوایا تھا۔ڈاکٹر حارث نے مسکرا کر کہا۔
"ہم صرف ہتھیار نہیں بناتے بلکہ ہم امن کی ضمانت بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
گاؤں کے اسکول میں اسمبلی ہو رہی تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے بچوں سے مخاطب ہوئی۔
"بچو! وطن صرف جنگ جیتنے سے نہیں بنتا بلکہ ہم سب کے اتحاد،ایمان،بھائی چارہ اور یکتا ہوکر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے ساتھ ایک دیوار کی مانند مضبوطی سے کھڑا ہونے سے بنتا ہے۔”
حمزہ نے ہاتھ اٹھایا اور سنجیدگی سے کہنے لگا۔ "میم! ہم کیا کر سکتے ہیں؟”
"بچوں! تم محنت سے پڑھو، سچ بولو، ملک سے محبت کرو، یہی تمہارا معرکہ ہے۔”
بچے یک زبان ہو کر بولے، "پاکستان زندہ باد!”
سرحد پر رات گہری ہو چکی تھی۔ دشمن نے ایک بار پھر پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تھی مگر ہر سمت سے اسے مضبوط مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بری فوج زمین پر ڈٹی ہوئی تھی، فضائیہ نے فضاؤں کے ذریعے جم کر مقابلہ کیا،بحریہ نے سمندر کی راہوں پر پہرہ سخت کر دیا اور سائنسدانوں کی ٹیکنالوجی نے دشمن کی ہر چال ناکام بنا دی تھی۔اپنی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے استعمال سے ان کے سارے سسٹم ہیک کر کے تباہ کر دیے تھے۔یہ صرف جنگ نہ تھی، یہ اتحاد کی قوت تھی۔ایک لمحے کو ایسا لگا جیسے پوری قوم کئی جسم اور ایک جان بن گئے ہوں۔ مسجدوں میں دعائیں ہو رہی تھیں، مائیں سجدوں میں بیٹھی تھیں، بچے اپنے سپاہیوں کے لیے کارڈ بنا رہے تھے۔آخرکار دشمن کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔صبح کی اذان کے ساتھ فضا میں امن کی خوشبو پھیل گئی۔ سپاہی علی رضا نے آسمان کی طرف دیکھا اور پھر زمین پر ماتھا ٹیک کر سجدہ شکر ادا کیا۔سارے سپاہی ایک دوسرے کے گلے لگ کر مبارکباد پیش کرنے لگے۔علی رضا نے ہاتھ اٹھا کر نعرہ بلند کیا۔
"نعرہ تکبیر!”
سارے سپاہی علی رضا کی آواز پر یک زبان ہو کر جوابا نعرہ بلند کرنے لگے۔
"اللّٰہ اکبر!”
"پاکستان کا مطلب کیا؟”
سارے سپاہی ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر کہنے لگے۔
"لا اله الا اللّٰہ!”
وطن کے محافظ اپنی جانوں کی پراہ کئے بغیر دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑے رہے ان کے ماتھے پر ڈر کی ہلکی شکن بھی نہ پڑی جس جرأت سے دشمن کے ہر وار کو ناکام بنایا تھا وہ قابل تحسین تھا۔
معمول کے مطابق شام کے وقت بچے عادل صاحب کے پاس آنا شروع ہو گئے تھے۔آج حمزہ حیرت سے دادا ابو کو دیکھ رہا تھا۔عادل صاحب بھی حمزہ کی حیرت کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن وہ کچھ نہ سمجھ پائے پھر حمزہ سے برائے راست ہی پوچھ لیا۔
"حمزہ بیٹا! کیا ہوا ہے؟آج کوئی شرارت نہیں سب ٹھیک ہے نا؟”
"دادا ابو! میں کچھ سوچ رہا ہوں۔”
عادل صاحب اس کی مستقل مزاجی سے تجسّس کا شکار ہوتے ہوئے کہنے لگے۔
"بیٹا! کیا سوچ رہے ہو ہمیں بھی اپنی قیمتی سوچ سے آگاہ کرو تاکہ ہمیں بھی علم ہو سکے۔”
حمزہ عادل صاحب کے پوچھنے پر ان کے سامنے آکر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔
"دادا ابو! تو کیا ہم بھی بنیان المرصوص بن سکتے ہیں؟” عادل صاحب نے شفقت سے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
"ہاں بیٹا!کیوں نہیں۔”
حمزہ ہاتھ کے اشارے سے کہنے لگا۔
"لیکن دادا ابو! کیسے؟”
"بیٹا!جب ہم آپس میں نفرت چھوڑ دیں ایک دوسرے کی مدد کریں، سچائی اور محنت کو اپنا شعار بنا لیں، تب ہم سب بنیان المرصوص بن جاتے ہیں۔”
حمزہ کی آنکھوں میں ایک چمک ابھری اس کے ہونٹوں پر ہلکی مسکان کے ساتھ ایک عہد بھی تھا حمزہ عزم سے گویا ہوا۔”دادا جان!میں بڑا ہو کر سائنسدان بنوں گا اور اپنے وطن کا محافظ بنوں گا۔”
عائشہ کی سماعتوں سے جہاز کی آواز نے سرگوشی کی اسی لمحے عائشہ کی آنکھوں میں نئے خواب نے دستک دی اور وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔
"دادا جان!میں پائلٹ بنوں گی اور دشمن کے ناپاک ارادوں کو ناکام کر دوں گی۔”
عادل صاحب بچوں کی باتوں سے مستفید ہوتے ہوئے ہنس پڑے وہ سمجھ چکے تھے اس وطن کو کوئی زیر نہیں کر سکتا ہے کیوں کہ آنے والے وقت میں کئی نئے محافظ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے سینہ تان کر کھڑے ہوں گے۔عادل صاحب کی آنکھوں میں نمی اُترنے لگی انھوں نے آنکھوں کو موند کر نمی ضبط کرنے کی کوشش کی اور بچوں کی ہمت کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔
"شاباش میرے بچوں! تم سب اس عرض پاک کی شان ہو اور میں تم سب کے لیے دعائیں کروں گا۔”
فون پر گھنٹی بجی سکرین پر ابھرنے والا نام عادل صاحب کے لیے ایک نئی زندگی کی نوید تھا انھوں نے فون اٹھایا دوسری طرف سے جو آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی اس نے کئی نئے چراغ روشن کر دیے تھے۔
"بابا! آپ کا بیٹا جلد ہی سر خرو ہو کر واپس آ رہا ہے۔”
"بیٹا! مجھے تم پر فخر ہے۔”
اسی لمحے مسجد کے مینار سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ سورج پوری آب و تاب سے طلوع ہو رہا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے روشنی خود اعلان کر رہی ہو۔
"یہ وطن صرف زمین کا ٹکڑا نہیں ہے یہ قربانیوں، محنتوں اور دعاؤں سے بنی ہوئی ایک مضبوط دیوار ہے بنیان المرصوص۔”
