Baaghi TV

ہم بنیانِ مرصوص ہیں،تحریر: عامر عباس ناصر اعوان

"قومیں اس وقت نہیں ٹوٹتیں جب دشمن حملہ کرتا ہے، بلکہ اس وقت ٹوٹتی ہیں جب دل ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں۔”

رات کی سیاہی اپنے دامن کو زمین پر پھیلا چکی تھی۔ فضا میں ایک عجیب سا سکوت تھا، جیسے وقت خود رک کر کسی فیصلے کا منتظر ہو۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوا، زمین لرز اٹھی، اور ایک نوجوان سپاہی زخمی حالت میں زمین پر گر پڑا۔ اس کے سینے سے خون بہہ رہا تھا، سانسیں بوجھل ہو رہی تھیں، مگر آنکھوں میں ایک عجیب سی روشنی تھی۔
اس نے لرزتے ہونٹوں سے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
“یا اللہ… میری قوم کو کبھی بکھرنے نہ دینا…”
یہ الفاظ کسی ایک سپاہی کے نہیں تھے، یہ پوری قوم کی روح کی آواز تھے۔ یہی وہ جذبہ ہے جسے قرآنِ مجید نے یوں بیان کیا:
“إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الَّذِينَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِهِ صَفًّا كَأَنَّهُم بُنْيَانٌ مَّرْصُوصٌ”
(بے شک اللہ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو اس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر کھڑے ہوتے ہیں گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں)

“بنیانِ مرصوص” محض ایک لفظ نہیں، یہ ایک زندہ احساس ہے، ایک ایسا عہد جو دلوں کو جوڑتا ہے۔ یہ وہ کیفیت ہے جب انسان اپنی ذات سے اوپر اٹھ کر “ہم” بن جاتا ہے، جب قربانیاں مشترک ہو جاتی ہیں، اور جب ہر فرد خود کو ایک بڑی دیوار کی اینٹ سمجھنے لگتا ہے۔

ہماری تاریخ اس جذبے کی روشن مثالوں سے بھری پڑی ہے۔ وہ مائیں جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑوں کو وطن کے نام کیا، وہ بہنیں جنہوں نے دعاؤں کے سائے میں اپنے بھائیوں کو رخصت کیا، اور وہ بچے جو باپ کے سائے سے محروم ہو گئے مگر سر فخر سے بلند رکھا،یہ سب بنیانِ مرصوص کی زندہ تصویریں ہیں۔
لہو سے سینچی گئی ہے یہ مٹی کی حرمت
یہ قرض ہم پہ ہے، اس کو سنبھالے رکھنا
جب قیامِ پاکستان کا خواب حقیقت بنا تو یہ کسی ایک فرد کی جدوجہد نہیں تھی، بلکہ ایک متحد قوم کی قربانیوں کا نتیجہ تھا۔ وہ لوگ جو مختلف زبانیں بولتے تھے، مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے تھے، مگر ان کے دل ایک ساتھ دھڑکتے تھے۔ یہی اتحاد ان کی اصل طاقت تھا۔
مگر آج… دل ایک سوال سے بوجھل ہو جاتا ہے۔

کیا ہم وہی قوم ہیں؟
ہم نے اپنے درمیان نفرت کی دیواریں کھڑی کر لی ہیں۔ کبھی زبان کے نام پر، کبھی فرقے کے نام پر، اور کبھی ذاتی مفادات کی بنیاد پر ہم ایک دوسرے سے دور ہو گئے ہیں۔ ہم نے ایک دوسرے کو سننا چھوڑ دیا ہے، ایک دوسرے کو سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔

سوشل میڈیا کی اس تیز رفتار دنیا میں ہم لفظوں کے تیر چلاتے ہیں، اور بھول جاتے ہیں کہ یہ تیر کسی کے دل کو زخمی کر سکتے ہیں۔ ہم اختلاف کو دشمنی سمجھ بیٹھے ہیں، حالانکہ اختلاف تو سوچ کی وسعت کی علامت ہوتا ہے، نفرت کی نہیں۔
لیکن… ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔
ابھی اس قوم کے دل میں وہ روشنی باقی ہے جو اسے پھر سے جوڑ سکتی ہے۔

جب سیلاب آتا ہے تو یہی لوگ ایک دوسرے کے لیے سہارا بن جاتے ہیں۔ جب زلزلہ زمین کو ہلاتا ہے تو یہی ہاتھ ایک دوسرے کو تھام لیتے ہیں۔ جب کوئی بھوکا ہوتا ہے تو یہی لوگ اپنا نوالہ بانٹ دیتے ہیں۔ یہی وہ لمحے ہوتے ہیں جب ہم حقیقت میں بنیانِ مرصوص بن جاتے ہیں۔
تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم اس جذبے کو صرف مشکل وقت تک محدود کیوں رکھیں؟ کیوں نہ اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں؟
ہمیں اپنے اندر جھانکنا ہوگا۔ ہمیں اپنی انا کو توڑنا ہوگا اور دلوں کو جوڑنا ہوگا۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ایک قوم کی اصل طاقت اس کا اتحاد ہوتا ہے، نہ کہ اس کے وسائل۔

ہماری نئی نسل ہماری سب سے بڑی امید ہے۔ اگر ہم ان کے دلوں میں محبت، برداشت اور اتحاد کا بیج بو دیں، تو وہ ایک ایسا کل تعمیر کریں گے جہاں نفرت کی کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
آج وقت ہمیں پکار رہا ہے…
آج تاریخ ہمیں دیکھ رہی ہے…
آؤ ایک عہد کریں۔۔۔
کہ ہم نفرت کو ختم کریں گے،
کہ ہم محبت کو فروغ دیں گے،
کہ ہم ایک دوسرے کا سہارا بنیں گے،
اک ہوں تو بن جاتے ہیں دریا بھی سمندر
بکھری ہوئی بوندوں کا کوئی نام نہیں ہوتا
جب ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو تھام لیتا ہے، تو کمزوری طاقت میں بدل جاتی ہے۔
جب ایک دل دوسرے دل کے لیے دھڑکتا ہے، تو فاصلے مٹ جاتے ہیں۔
اور جب پوری قوم ایک ہو جائے… تو وہ ناقابلِ شکست بن جاتی ہے۔
آئیے… ہم پھر سے خود کو پہچانیں۔
آئیے… ہم پھر سے ایک ہو جائیں۔
آئیے… ہم دنیا کو دکھا دیں کہ ہم بکھرے ہوئے نہیں، جڑے ہوئے ہیں۔
کیونکہ ہمارا ایمان، ہماری تاریخ اور ہمارا ضمیر گواہ ہے۔۔۔
ہم وہ قوم ہیں جو آزمائش میں نکھر جاتی ہے،
ہم وہ دیوار ہیں جو گرتی نہیں، مضبوط ہوتی ہے،
ہم تھے، ہم ہیں، اور ہم ہمیشہ رہیں گے۔۔۔
ہم بنیانِ مرصوص ہیں۔

More posts