Baaghi TV

سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے تمام آپشنز زیر غور ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

پاکستان اور ایران

اسلام آباد: پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جلد معاہدے کی توقع ہے جبکہ سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے پاکستان کے تمام آپشنز زیر غور ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ آج “معرکہ حق” کی پہلی سالگرہ ہے اور پانچ مئی کو نائب وزیراعظم نے اس حوالے سے سفارتی کور کو بریفنگ بھی دی۔ترجمان دفتر خارجہ نے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری رابطوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کے تبادلے کی تفصیلات پر بات نہیں کریں گے، تاہم پاکستان کو امید ہے کہ دونوں فریق معاملات کے حل کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ممکنہ معاہدہ ایک صفحے پر مشتمل ہوگا یا کئی صفحات پر، لیکن معاہدے کے امکانات روشن ہیں۔

بریفنگ کے دوران ترجمان نے کہا کہ عالمی برادری کو جنوبی ایشیا میں امن و سلامتی کے حوالے سے تشویش لاحق ہے، تاہم پاکستان اپنے مفادات کے تحفظ کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ “پاکستان کا ایک قطرہ پانی بھی کوئی چوری نہیں کرسکتا”۔دفتر خارجہ کے مطابق سندھ طاس معاہدے سے متعلق تمام ممکنہ آپشنز کا جائزہ لیا جا رہا ہے جبکہ انڈس واٹر کمشنر اور متعلقہ حکام دریاؤں کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔ترجمان نے پاک افغان تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام امن چاہتے ہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان کوئی تنازع نہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک مذہبی اور ثقافتی رشتوں میں بندھے ہوئے ہیں، تاہم افغان سرزمین سے دہشت گردی کے واقعات تعلقات میں خرابی کا باعث بن رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ طالبان حکومت کے تحت افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی خطے کے امن کے لیے خطرہ ہے، اس لیے سرحدی بندش جیسے اقدامات کے بجائے دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کے خاتمے پر توجہ دینا ہوگی۔ ترجمان کے مطابق اگر دہشت گردی ختم ہو جائے تو باقی مسائل خود بخود حل ہوسکتے ہیں۔

More posts