وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے جمعیت علما اسلام کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی رہائش گاہ پر ان سے ملاقات کی-
ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے واضح کیا ہے کہ دینی مدارس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی یا تالہ بندی کا نہ تو کوئی ارادہ تھا اور نہ ہی ہے ، اس حوالے سے محض غلط فہمیاں پھیلائی گئیں،دینی مدارس ہمارے معاشرے کا ناگزیر حصہ ہیں اور حکومت انہیں دل کے قریب سمجھتی ہے مدارس کی ترقی اور بہتری کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔
سرفراز بگٹی نے بتایا کہ پارلیمنٹ سے منظور شدہ ’مدارس رجسٹریشن ایکٹ‘ اب بلوچستان اسمبلی میں پیش ہونا ہے، جس کے حوالے سے جمعیت کی قیاد ت سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور مولانا عبدالواسع نے اس ضمن میں اپنے مطالبات سامنے رکھے ہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھیوں نے مولانا عبدالواسع سے 10 دن کی مہلت طلب کی ہے تاکہ اس اہم معاملے پر اپنی پارٹی قیادت کو مکمل اعتماد میں لیا جا سکے۔
انہوں نے یقین دہانی کروائی کہ بلوچستان اسمبلی میں تمام فریقین کے اتفاقِ رائے سے قانون سازی کی جائے گی اور یہ مسئلہ انشاء اللہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے گا،سرفراز بگٹی نے جے یو آئی کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کی جانب سے ملنے والی عزت اور شفقت کے مشکور ہیں۔
