برطانیہ کے 26 سالہ نوجوان اسٹیون ہیمل نے ایک نہایت تکلیف دہ اور نایاب بیماری کے خلاف اپنی جدوجہد بیان کرتے ہوئے مردوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ جسم میں ہونے والی غیر معمولی تبدیلیوں کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔ اسٹیون کو عضوِ تناسل کے جارحانہ کینسر نے اس حد تک متاثر کیا کہ ڈاکٹروں کو ان کے عضوِ تناسل کا تقریباً 4 انچ حصہ کاٹنا پڑا۔
اسٹیون ہیمل نے برطانوی ٹی وی پروگرام میں اپنی کہانی بیان کرتے ہوئے کہا کہ 2019 میں ایک صبح وہ شدید سوجن کے ساتھ بیدار ہوئے۔ ابتدا میں انہوں نے اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر نظر انداز کیا اور امید کی کہ یہ خود بخود ٹھیک ہو جائے گا۔لیکن چند ہی دن بعد صورتحال خوفناک رخ اختیار کر گئی۔ اسٹیون کے مطابق وہ گھر میں چائے بنا رہے تھے کہ اچانک انہیں نیچے نمی محسوس ہوئی۔ جب انہوں نے دیکھا تو ہر طرف خون پھیلا ہوا تھا۔انہوں نے بتایا“خون الماریوں، فرش اور میرے پیروں تک پھیل چکا تھا۔ منظر انتہائی خوفناک تھا۔”
شدید خون بہنے کے بعد اسٹیون ڈاکٹر کے پاس گئے، تاہم ان کی کم عمر ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے کینسر کے امکان کو تقریباً مسترد کر دیا۔اسٹیون کے مطابق انہیں بتایا گیا “تم صرف 26 سال کے ہو، اس عمر میں عضوِ تناسل کا کینسر نہیں ہوتا، یہ زیادہ تر 50 سال سے زائد عمر کے مردوں میں پایا جاتا ہے۔”ڈاکٹروں نے انہیں بالانائٹس نامی بیکٹیریل انفیکشن قرار دیتے ہوئے سٹیرائیڈ کریم استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔ کچھ عرصے تک اسٹیون مطمئن رہے کہ انہیں کینسر نہیں ہے، مگر بیماری اندر ہی اندر بڑھتی رہی۔
کچھ ہی ہفتوں بعد اسٹیون کو شدید تکلیف شروع ہوگئی۔ انہوں نے درد کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کہا “ایسا لگتا تھا جیسے کوئی مسلسل سوئی چبھو رہا ہو، ہر سیکنڈ درد بڑھتا جاتا تھا۔”وہ کئی کئی گھنٹے گرم پانی کے ٹب میں بیٹھے رہتے کیونکہ صرف گرم پانی ہی انہیں کچھ سکون دیتا تھا۔بعد ازاں خون بہنا دوبارہ شروع ہوگیا۔ ایک موقع پر وہ اپنی بہن کی شادی سے ایک دن پہلے بھائی کی گاڑی میں بے ہوش ہوگئے اور جب آنکھ کھلی تو گاڑی خون سے بھر چکی تھی۔حالت تشویشناک ہونے کے باوجود اسٹیون نے بہن کی شادی میں شرکت کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بالغ افراد کیلئے استعمال ہونے والے پیڈز پہن کر تقریب میں شرکت کی اور درد کم کرنے کیلئے شراب کا سہارا لیا۔ان کے مطابق “میں نے خود سے کہا کہ شادی نہیں چھوڑ سکتا، چاہے تکلیف کتنی ہی کیوں نہ ہو۔”
بعد ازاں ماہر یورولوجسٹ نے فوری طور پر انہیں کینسر اسپیشلسٹ کے پاس بھیجا۔ ابتدا میں ڈاکٹروں نے ختنہ کرنے کا فیصلہ کیا، مگر سرجری کے دوران معلوم ہوا کہ سرطان عضوِ تناسل کے ٹشوز کو بری طرح تباہ کر چکا ہے۔اسٹیون نے بتایا کہ عضو کی حالت ایسی ہوگئی تھی جیسے “کیلے کو نیچے سے کاٹ دیا گیا ہو” اور اندر ایک “بڑا گڑھا” بن چکا تھا۔ڈاکٹروں نے انہیں بتایا کہ کینسر انتہائی خطرناک مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور جان بچانے کیلئے عضوِ تناسل کا بڑا حصہ کاٹنا ناگزیر ہے۔سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے عضوِ تناسل کے سرے سمیت تقریباً 4 انچ حصہ نکال دیا۔ اسٹیون کے مطابق ڈاکٹروں کے چہروں سے ہی ظاہر ہورہا تھا کہ انہیں خدشہ ہے کہ شاید وہ زندہ نہ بچ سکیں۔ان کے یورولوجسٹ نے صاف الفاظ میں کہا “یہ بہت خراب صورتحال ہے۔ میں تمہاری عمر کو دیکھتے ہوئے زیادہ سے زیادہ حصہ بچانے کی کوشش کروں گا، لیکن تمہاری زندگی اب مکمل طور پر بدل جائے گی۔”
طویل علاج اور کامیاب صحت یابی کے بعد اسٹیون اب عضوِ تناسل کے کینسر سے متعلق آگاہی مہم چلا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بیماری نے ان کی زندگی کا نظریہ بدل دیا۔انہوں نے کہا“میں نے زندگی کو نئے انداز سے دیکھنا سیکھ لیا ہے۔ اب رشتے زیادہ گہرے اور جذباتی محسوس ہوتے ہیں۔”اسٹیون نے مصنوعی تعمیرِ نو نہ کروانے کا فیصلہ کیا کیونکہ ڈاکٹروں کے مطابق اس سے حساسیت مزید کم ہوسکتی تھی۔
ماہرین کے مطابق عضوِ تناسل کا کینسر دنیا بھر میں نسبتاً نایاب بیماری ہے، تاہم اگر بروقت تشخیص نہ ہو تو یہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔امریکی کینسر سوسائٹی کے مطابق ہر سال امریکا میں تقریباً 2 ہزار نئے کیسز سامنے آتے ہیں۔بیماری کی علامات میں،عضو پر سرخ دھبے،غیر معمولی سوجن،خون بہنا،زخم یا گلٹیاں،رنگت میں تبدیلی،بدبودار مواد یا اخراج ،شدید درد شامل ہیں،ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی قسم کی علامت دو ہفتوں سے زائد برقرار رہے تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔اسٹیون ہیمل نے مردوں سے اپیل کی ہے کہ شرمندگی یا خوف کی وجہ سے طبی معائنہ مؤخر نہ کریں۔انہوں نے کہا “اگر آپ مسلسل ماضی کو دیکھتے رہیں تو آگے نہیں بڑھ سکتے۔ میں زندہ ہوں، میرے پاس میرا بچہ ہے، زندگی اب بھی خوبصورت ہے، چاہے کچھ چیزیں ظاہری طور پر مختلف کیوں نہ ہوں۔”
