چارسدہ میں خوارج کے خلاف عوامی ردِعمل میں نمایاں شدت دیکھنے میں آ رہی ہے، جہاں شہریوں نے مختلف مقامات پر دیواروں پر خوارجی دہشتگرد نور ولی کے چہرے پر “لعنت” لکھ کر اپنے شدید غم و غصے کا اظہار کیا۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ دہشتگرد عناصر نے نہ صرف ملک کے امن کو نقصان پہنچایا بلکہ مذہبی شخصیات، مساجد اور معصوم شہریوں کو بھی مسلسل نشانہ بنایا۔مقامی ذرائع کے مطابق مولانا شیخ ادریس کی شہادت کے بعد علاقے میں خوارج کے خلاف جذبات مزید بھڑک اٹھے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ علما پر حملے دراصل دین اسلام اور امن دشمنی کا کھلا ثبوت ہیں۔ مختلف علاقوں میں عوام نے دہشتگردی کے خلاف نعرے لگائے اور خوارج کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب مولانا فضل الرحمٰن سمیت متعدد مذہبی علما کی جانب سے خوارج کے خلاف اعلانِ جنگ کے بعد عوامی بیانیے میں بھی سختی دیکھی جا رہی ہے۔ مذہبی رہنماؤں نے واضح کیا ہے کہ معصوم انسانوں کا قتل، مساجد پر حملے اور علما کو نشانہ بنانا اسلامی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔
عوامی و مذہبی حلقوں کا کہنا ہے کہ خوارج نے اپنی کارروائیوں سے خود کو اسلام اور انسانیت دونوں کا دشمن ثابت کیا ہے، جبکہ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے تاکہ ملک میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔
