چینی وزارتِ خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب خلیج میں اپنے آئل ٹینکر پر حملے کے واقعے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے آئل ٹینکر پر چینی عملہ موجود تھا، تاہم خوش قسمتی سے اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔ ترجمان نے کہا کہ چین اپنے شہریوں اور سمندری مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق چینی ٹینکر 4 مئی کو مینا صقر کے قریب حملے کا نشانہ بنا۔ واقعے کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں، جہاں پہلے ہی امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کے باعث غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے۔
چینی میڈیا ادارے شیاشن کی رپورٹ کے مطابق حملے کے بعد نامعلوم جہاز کے ڈیک میں آگ بھڑک اٹھی۔ رپورٹ میں متاثرہ جہاز کی شناخت “چائنا آنر اینڈ کریو” کے نام سے کی گئی ہے۔ آگ لگنے کے بعد امدادی کارروائیاں شروع کی گئیں جبکہ جہاز کے عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کی کوششیں کی گئیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ خلیج میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی سمندری تجارت کے لیے بڑا خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ رپورٹس کے مطابق سیکڑوں بحری جہاز اور تقریباً 20 ہزار سی فیررز اس وقت خطے میں پھنسے ہوئے ہیں، جس کے باعث تیل کی ترسیل، تجارتی سرگرمیوں اور بین الاقوامی شپنگ کے نظام پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو عالمی توانائی منڈیوں میں بے یقینی مزید بڑھ سکتی ہے، جبکہ خلیج کے اہم بحری راستوں پر سیکیورٹی کے مسائل عالمی معیشت کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔
