وزیراعظم پاکستان شہباز شریف 23 مئی کو ایک اہم سرکاری دورے پر چین روانہ ہوں گے جہاں وہ چینی قیادت کے ساتھ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور بالخصوص امریکا ایران کشیدگی کے ممکنہ اثرات پر تفصیلی مشاورت کریں گے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سطح پر جیو پولیٹیکل کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے تناظر میں پاکستان اور چین کی قیادت کے درمیان قریبی رابطہ انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعظم اس دورے کے دوران شی جن پنگ اور لی چیانگ سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف پاکستان اور چین کے درمیان دوستی کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے، جو دونوں ممالک کے دیرینہ اور آزمودہ تعلقات کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق اس اعلیٰ سطحی دورے میں پاکستان اور چین کے درمیان متعدد اہم معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط بھی متوقع ہیں، جن کا تعلق مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ سے ہوگا۔سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وزراء اور اہم سرکاری شخصیات کا وفد بھی ہوگا، جو مختلف اسٹریٹجک اور اقتصادی مذاکرات میں حصہ لے گا۔سفارتی ماہرین کے مطابق یہ دورہ نہ صرف پاک چین تعلقات کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ خطے کی مجموعی جیو پولیٹیکل صورتحال پر بھی اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
