Baaghi TV

انمول عرف پنکی کیس: اعلیٰ افسران کی کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے

منشیات کے الزام میں قید خاتون انمول عرف پنکی کے کیس کے حوالے سے اعلیٰ افسران کی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں کیس سے متعلق اہم فیصلے کیے گئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان کی زیر صدارت ہوا جس میں ڈی آئی جیز اسد رضا، اظفر مہیسر، عامر فاروقی، شیراز نذیر اور ایس ایس پی سمیع اللہ سومرو نے شرکت کی اجلاس میں ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کیس کی پیشرفت پر تفصیلی بریفنگ دی۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایف آئی اے اور اے این ایف سمیت متعلقہ اداروں کو خطوط ارسال کیے جائیں گے تاکہ تحقیقات میں تعاون حاصل کیا جا سکے،علاوہ ازیں انمول کے مبینہ منشیات نیٹ ورک سے وابستہ افراد اور استعمال کرنے والوں کو مقدمے میں گواہ بنایا جائے گا، جبکہ رضاکارانہ طور پر بیان دینے والے افراد کو بھی بطور گواہ شامل کیا جائے گا جبکہ مبینہ کارٹیل کے بینک اکاؤنٹس کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، رقوم کی منتقلی اور ڈیلرز نیٹ ورک کی نشاندہی کے لیے ٹیکنیکل وسائل استعمال کیے جائیں گے۔

کراچی کی سٹی کورٹ نے انمول عرف پنکی کے خلاف درج 12 سے زائد مقدمات میں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

ہفتے کے روز ملزمہ کی عدالت پیشی کے موقع پر ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی اور ملزمہ نے پولیس پر زبردستی بیانات دلوانے اور جھوٹے مقدمات بنانے کے بھی الزامات لگائے۔ جس پر تفتیشی افسر نے ملزمہ کے تمام الزامات کو مسترد کر دیا۔

گزشتہ روز پریس کانفرنس کے دوران ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے بتایا تھا کہ تفتیش کے دوران پنکی کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں اور ایک بینک اکاؤنٹ میں تین کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں ملزمہ کے نیٹ ورک کا حصہ 9 بائیک رائیڈرز میں سے آٹھ کا تعلق پنجاب سے ہے، اور پولیس نے نیٹ ورک سے جڑے چار اہم ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے کی درخواست کر دی ہے۔

پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق انمول عرف پنکی مختلف تھانوں میں درج متعدد مقدمات میں نامزد اور مفرور قرار دی جا چکی ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اسے پہلی مرتبہ 2018 میں کراچی میں اور 2024 میں لاہور میں گرفتار کیا گیا تھا، تاہم اثر و رسوخ اور مالی معاملات کے باعث اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوسکی تھی۔

تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمہ کراچی سے لاہور تک پھیلے اربوں روپے مالیت کے منشیات نیٹ ورک کی مرکزی کردار ہے تفتیشی حکام کے مطابق اس نیٹ ورک میں اس کے قریبی رشتہ دار، خصوصاً اس کے بھائی بھی شامل ہیں، جبکہ منشیات کی ترسیل کے لیے خواتین بائیک رائیڈر ز کا استعمال کیا جاتا تھا۔

ذرائع کے مطابق تفتیشی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملزمہ نہ صرف منشیات کی سپلائی بلکہ کوکین کی تیاری میں بھی مہارت رکھتی تھی اور اس نے مبینہ طور پر منشیات کا اپنا الگ “برانڈ” متعارف کرا رکھا تھا۔

More posts