Baaghi TV

ایران کی اسٹاک مارکیٹ 80 دن بعد دوبارہ کھلنے کیلئے تیار

ایران کی اسٹاک مارکیٹ تقریباً 80 دن بند رہنے کے بعد منگل 19 مئی سے دوبارہ ٹریڈنگ شروع کرنے جا رہی ہے، جبکہ سرمایہ کاروں اور معاشی ماہرین کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ مارکیٹ کھلنے کے بعد صورتحال کس رخ پر جاتی ہے۔
‎ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اِرنا کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی اور جنگی حالات کے دوران اسٹاک مارکیٹ کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا تھا تاکہ سرمایہ کاروں کے اثاثوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
‎سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج آرگنائزیشن کے ڈپٹی سپروائزر حمید یاری نے کہا کہ مارکیٹ کی معطلی کا مقصد خوف و ہراس کے تحت ہونے والی ٹریڈنگ کو روکنا اور قیمتوں کے زیادہ شفاف تعین کیلئے حالات پیدا کرنا تھا۔
‎انہوں نے کہا کہ تمام ضروری منظوریوں اور رابطہ کاری کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے، جس کے بعد حصص، سرمایہ کاری فنڈز اور ڈیریویٹوز کی ٹریڈنگ دوبارہ بحال کی جا رہی ہے۔
‎حمید یاری کے مطابق مارکیٹ کھلنے کے بعد سرمایہ جاتی منڈی کے تمام شعبے دوبارہ مکمل طور پر فعال ہو جائیں گے۔
‎رپورٹس کے مطابق ایران نے یکم مارچ کو اسٹاک مارکیٹ معطل کی تھی، جبکہ بعد میں 7 مارچ کو اس بندش کو غیر معینہ مدت تک بڑھا دیا گیا تھا۔
‎معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی بحالی کے بعد لاکھوں ریٹیل سرمایہ کار دوبارہ سرگرم ہو جائیں گے، تاہم یہ خدشہ موجود ہے کہ کئی سرمایہ کار ایک ساتھ اپنے حصص فروخت کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں، جس سے مارکیٹ شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔
‎اطلاعات کے مطابق ایرانی حکام ممکنہ بحران سے بچنے کیلئے مختلف حفاظتی اقدامات پر کام کر رہے ہیں، جن میں مخصوص شیئرز پر قیمتوں کی سخت حدود مقرر کرنا اور مارکیٹ میکرز کے ذریعے لیکویڈیٹی فراہم کرنا شامل ہے۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق اگر فروخت کا دباؤ بہت زیادہ ہوا تو حکومتی اقدامات کے باوجود مارکیٹ میں شدید گراوٹ دیکھی جا سکتی ہے۔
‎سیاسی اور معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی اسٹاک مارکیٹ کی بحالی صرف اقتصادی سرگرمی نہیں بلکہ عالمی سرمایہ کاروں کیلئے ایک اہم اشارہ بھی سمجھی جا رہی ہے کہ تہران کشیدگی کے باوجود معاشی استحکام بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

More posts