قصور ڈسٹرکٹ جیل میں مبینہ طور پر بدعنوانی، ظلم و زیادتی اور غیر قانونی سرگرمیوں کے سنگین انکشافات سامنے آئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جیل میں تعینات بعض افسران کی جانب سے قیدیوں سے ماہانہ بھتہ (منتھلی) وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔
اطلاعات کے مطابق جیل کے اندر موبائل فون، منشیات، سگریٹ اور دیگر غیر قانونی اشیاء مبینہ طور پر رقم کے عوض فراہم کی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ قیدیوں سے ملاقات کے لیے آنے والے افراد سے بھی پیسے وصول کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، جبکہ ادائیگی نہ کرنے والوں کو گھنٹوں تک بلاوجہ انتظار اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ عید جیسے مقدس موقع پر بھی قیدیوں سے “عیدی” کے نام پر رقم وصول کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں قیدیوں کے لیے باہر سے آنے والے کھانے، پھلوں اور دیگر اشیاء میں سے بھی مبینہ طور پر آدھا حصہ لے لیا جاتا ہے۔
متاثرہ ذرائع کے مطابق پوری جیل ایک مبینہ “ٹھیکہ سسٹم” کے تحت چلائی جا رہی ہے، جہاں ہر سہولت کی الگ قیمت مقرر ہے، جو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔
عوامی حلقوں اور متاثرہ خاندانوں نے پنجاب جیل خانہ جات کے آئی جی سے فوری نوٹس لینے، شفاف تحقیقات کرانے اور ملوث عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مبینہ ظلم و ناانصافی کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
