Baaghi TV

سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش

حکومت نے ملک کی سرکاری اور نجی ایئر لائنز کی گزشتہ تین سال 2022 تا 2024 کی آمدن، منافع، نقصان اور ادا کردہ ٹیکسوں کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کر دی ہیں۔

وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف کی جانب سے ایوان میں جمع کرائے گئے تحریری جواب کے مطابق، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (PIACL) شدید مالی بحران اور ٹیکسوں کے بوجھ کا شکار ہے، جبکہ نجی ایئر لائنز مسلسل منافع کما رہی ہیں۔

دستاویزات کے مطابق قومی ایئر لائن (پی آئی اے) کو سال 2024 کے دوران ٹیکس سے قبل صرف 3 ارب 5 کروڑ 75 لاکھ روپے کا منافع ہوا، لیکن اس پر 29 ارب 26 کروڑ 12 لاکھ روپے کا بھاری ٹیکس عائد کیا گیا، جس کے باعث ٹیکس کی ادائیگی کے بعد پی آئی اے کا حتمی خسارہ 26 ارب 20 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا اس سے قبل، سال 2023 میں پی آئی اے کا ٹیکس سے قبل منافع 101 ارب 49 کروڑ روپے رہا تھا، جس پر 3 ارب روپے ٹیکس ادا کیا گیا، جبکہ سال 2022 میں 86 ارب 51 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 49 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا گیا تھا۔

نجی ایئر لائن ایئربلیو نے سال 2025 میں 4 ارب 86 کروڑ روپے کا منافع کمایا اور 1 ارب 17 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا سال 2024 میں کمپنی کا منافع 1 ارب 90 کروڑ روپے رہا، جس پر 32 کروڑ 31 لاکھ روپے ٹیکس دیا گیا، جبکہ سال 2023 میں کمپنی نے 5 ارب 46 کروڑ روپے کا شاندار منافع کمایا، تاہم اس سال کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔

ایئر سیال نے مسلسل تین سال منافع بخش کارکردگی دکھائی سال 2025 میں 4 ارب 57 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 49 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا گیا، سال 2024 میں 3 ارب 39 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 9 کروڑ روپے ٹیکس اور سال 2023 میں 4 ارب 88 کروڑ روپے کے منافع پر 1 ارب 42 کروڑ روپے ٹیکس قومی خزانے میں جمع کرایا گیا۔

نئی نجی ایئر لائن فلائی جناح نے بھی بہترین آغاز کیا سال 2025 میں کمپنی نے 5 ارب 73 کروڑ روپے کا منافع کمایا اور 1 ارب 59 کروڑ روپے ٹیکس ادا کیا، سال 2024 میں اس کا منافع 2 ارب 64 کروڑ روپے رہا، جس پر 72 کروڑ روپے ٹیکس دیا گیا، جبکہ سال 2023 میں 3 ارب 69 کروڑ روپے کے منافع پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوا۔

سیرین ایئر اس وقت غیر فعال ہے اور اس کا مالیاتی ڈیٹا تاحال مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں تاہم، ریکارڈ کے مطابق سال 2023 میں کمپنی کے 793 ارب روپے کے منافع پر 719 ارب روپے کا بھاری ٹیکس ریکارڈ کیا گیا تھا۔

ایوان کو بتایا گیا کہ یہ تمام اعدادوشمار سول ایوی ایشن اتھارٹی (PCAA) کے سرکاری ریکارڈ سے حاصل کیے گئے ہیں، جو ملکی ہوا بازی کی صنعت کی موجودہ معاشی صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔

More posts