امریکا کے علاقے بیورلی ہلز میں ایک ہوٹل کی جانب سے صرف کیک کاٹنے کیلئے 110 ڈالر فیس وصول کیے جانے کا واقعہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک خاتون فوڈ انفلوئنسر اپنے دوستوں کے ساتھ ایک لگژری ہوٹل کے روف ٹاپ ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے گئی جہاں انہوں نے سالگرہ کا کیک بھی کاٹا۔
بعد ازاں جب بل سامنے آیا تو ہوٹل انتظامیہ نے کیک کاٹنے کے اضافی 110 ڈالر یعنی پاکستانی 30 ہزار روپے سے زائد چارج کر لیے، جس پر خاتون اور ان کے دوست حیران رہ گئے۔
فوڈ انفلوئنسر نے انسٹاگرام پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بل بھی دکھایا اور بتایا کہ انتظامیہ نے فی فرد 10 ڈالر کیک کاٹنے کی فیس وصول کی۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایسی کوئی پالیسی تھی تو مہمانوں کو پہلے آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔ کئی افراد نے ہوٹل انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بنایا جبکہ کچھ صارفین نے اسے “امیرانہ فیس” قرار دیا۔
واقعہ وائرل ہونے کے بعد ہوٹل انتظامیہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا۔
انتظامیہ کا کہنا تھا کہ مہمانوں کو کیک کاٹنے کی فیس کے بارے میں بروقت آگاہ نہ کرنا ان کے معیار کے مطابق نہیں تھا۔
ہوٹل نے خاتون کو مکمل رقم واپس کرنے کی پیشکش بھی کی اور اعلان کیا کہ اب فی فرد کیک کاٹنے کی فیس 10 ڈالر سے کم کر کے 5 ڈالر کر دی گئی ہے۔
یہ عجیب و غریب واقعہ اب سوشل میڈیا پر “مہنگی ترین کیک کٹنگ” کے نام سے وائرل ہو رہا ہے۔
امریکا میں ہوٹل نے کیک کاٹنے کے 30 ہزار روپے سے زائد چارج کر لیے
