بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت کے نوجوانوں سے متعلق متنازع ریمارکس کے بعد ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ایک طنزیہ سیاسی تحریک سامنے آگئی-
بھارتی میڈیا کے مطابق چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک عدالتی سماعت کے دوران کہا تھا کہ کچھ نوجوان ’کاکروچ‘ کی طرح ہیں، جنہیں روزگار نہیں ملتا، پھر وہ سماجی ذرائع ابلاغ، صحافت یا سرگرم کارکن بن کر نظام پر حملے شروع کر دیتے ہیں بعد ازاں انہوں نے وضاحت دی کہ ان کا اشارہ جعلی ڈگری رکھنے والے افراد کی جانب تھا، نہ کہ تمام نوجوانوں کی طرف۔
تاہم ان ریمارکس پر بالخصوص نوجوان نسل میں شدید ردعمل سامنے آیا، جہاں بے روزگاری، مہنگائی اور سماجی تقسیم پہلے ہی بڑے مسائل سمجھے جا رہے ہیں،30 سالہ ابھیجیت ڈپکے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر طنزیہ انداز میں سوال اٹھایا کہ اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں تو؟‘ بعد ازاں انہوں نے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے نام سے ویب سائٹ اور سماجی ذرائع ابلاغ کے صفحات قائم کر دیے۔
شوبزاور سیاسی شخصیات انمول پنکی کی کسٹمرز نکلیں
رپورٹ کے مطابق 3 روز میں اس تحریک کے لاکھوں حمایتی سامنے آئے، جبکہ ہزاروں افراد نے رکنیت فارم بھی پُر کیے اس طنزیہ جماعت کا منشور نوجوانوں کی بے روزگاری، حکومتی طرزِ سیاست، ذرائع ابلاغ کے کردار اور عدالتی تقرریوں جیسے معاملات پر طنزیہ انداز میں تنقید کرتا ہے،ابھیجیت ڈپکے کا کہنا ہے کہ بھارت میں لوگ طویل عرصے سے خاموش تھے، مگر اب نوجوان سوال اٹھا رہے ہیں اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
