دبئی کی مشہور عمارت برج خلیفہ جلد دنیا کی بلند ترین عمارت ہونے کا اعزاز کھو سکتی ہے کیونکہ سعودی عرب میں دو بڑے میگا ٹاور منصوبے تیزی سے توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
828 میٹر بلند برج خلیفہ اس وقت دنیا کی سب سے بلند عمارت ہے، تاہم سعودی عرب کے مجوزہ “رائز ٹاور” اور زیرِ تعمیر “جدہ اکنامک ٹاور” مستقبل میں اسے پیچھے چھوڑ سکتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ریاض میں مجوزہ “رائز ٹاور” کی ممکنہ بلندی 2000 میٹر تک رکھنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ اگر یہ منصوبہ مکمل ہوا تو یہ دنیا کی بلند ترین عمارت ہی نہیں بلکہ جدید انجینئرنگ کا ایک تاریخی شاہکار بھی بن جائے گا۔ تاہم یہ منصوبہ فی الحال ابتدائی ڈیزائن مرحلے میں موجود ہے۔
دوسری جانب جدہ اکنامک ٹاور کی تعمیر پر تیزی سے کام جاری ہے اور یہ عمارت حال ہی میں 370 میٹر کی بلندی تک پہنچ چکی ہے۔ “جی ای سی ٹاور” کے نام سے معروف یہ منصوبہ ایک ہزار میٹر سے زائد بلند ہوگا، جو اسے برج خلیفہ سے اونچا بنا دے گا۔
رپورٹس کے مطابق اس ٹاور پر شیشے کی بیرونی دیواروں کی تنصیب بھی شروع ہو چکی ہے۔ عمارت میں لگژری رہائشی اپارٹمنٹس، تجارتی مراکز، فور سیزنز ہوٹل اور ایک خصوصی آبزرویشن ڈیک شامل ہوگا جہاں سے جدہ شہر اور بحیرہ احمر کا دلکش منظر دیکھا جا سکے گا۔
یہ منصوبہ “جدہ اکنامک کمپنی سٹی” کے پہلے مرحلے کا حصہ ہے، جس کا رقبہ تقریباً 13 لاکھ مربع میٹر پر مشتمل ہوگا جبکہ پورے منصوبے کا مجموعی رقبہ 53 لاکھ مربع میٹر بتایا جا رہا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان سعودی منصوبوں کے ڈیزائن امریکی آرکیٹیکٹ ایڈرین اسمتھ نے تیار کیے ہیں، جو برج خلیفہ کے بھی معمار ہیں۔
ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک میں بلند ترین عمارتوں کی دوڑ نہ صرف جدید تعمیراتی صلاحیتوں کی علامت بن چکی ہے بلکہ یہ سیاحت، سرمایہ کاری اور عالمی توجہ حاصل کرنے کی حکمت عملی کا بھی حصہ ہے۔
برج خلیفہ دنیا کی بلند ترین عمارت کا اعزاز کھو سکتا ہے
