ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی افواج نے خلیج میں ایک دشمن ڈرون کو جدید دفاعی نظام کے ذریعے مار گرایا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز کے مطابق یہ کارروائی ایرانی فوج نے “آرشِ کمانگیر” انٹرسیپٹر ڈرونز کی مدد سے انجام دی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی افواج نے ایک ایسے جدید اور خفیہ دفاعی نظام کا استعمال کیا جس میں جدید ٹیکنالوجی اور خصوصی صلاحیتیں شامل ہیں۔
ایرانی حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد فضائی حدود کی نگرانی، دشمن ڈرونز کی بروقت شناخت اور انہیں تباہ کرنا ہے۔
رپورٹ میں ڈرون کی شناخت یا اس کے تعلق کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں، تاہم ایرانی میڈیا نے اسے “دشمن ڈرون” قرار دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران گزشتہ چند برسوں سے اپنے دفاعی اور ڈرون پروگرام کو تیزی سے وسعت دے رہا ہے، خاص طور پر خلیجی خطے میں بڑھتی کشیدگی کے تناظر میں ایران اپنی فضائی اور بحری دفاعی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنا رہا ہے۔
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں سیکیورٹی صورتحال پہلے ہی کشیدہ ہے اور آبنائے ہرمز سمیت خلیجی علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے تو یہ خطے میں جدید ڈرون اور فضائی دفاعی نظاموں کی بڑھتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
دوسری جانب عالمی مبصرین خلیجی خطے میں کسی بھی نئی عسکری کشیدگی کے ممکنہ اثرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کیونکہ اس کے عالمی توانائی مارکیٹ اور علاقائی استحکام پر براہِ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ایران کا خلیج میں دشمن ڈرون مار گرانے کا دعویٰ
