امریکی ریاست نیویارک میں ایک شخص اس وقت خوفناک صورتحال کا شکار ہوگیا جب وہ چمگادڑوں سے بھری ایک تنگ اور تاریک غار میں پھنس گیا اور چھ گھنٹے تک باہر نہ نکل سکا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق بروکلین سے تعلق رکھنے والا یہ شخص اپنے دوستوں کے ساتھ ریاست نیویارک کے علاقے کینان میں واقع مارلن غار کی سیر کیلئے گیا تھا۔
فارسٹ رینجرز حکام کے مطابق یہ گروپ غار کے اُس خطرناک حصے میں موجود تھا جسے “بیئر ٹریپ” کہا جاتا ہے، جہاں انتہائی تنگ راستہ موجود ہے اور نیچے ایک چشمہ بہتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ چٹان پر شدید پھسلن ہونے کے باعث یہ شخص اچانک پھسل کر ایک نہایت تنگ جگہ میں جا پھنسا۔
رپورٹس کے مطابق وہ مزید اندر سرکتا چلا گیا اور اس کا پورا جسم دو چٹانوں کے درمیان بری طرح جکڑ گیا، جس کے بعد وہ خود کو نکالنے میں مکمل طور پر بے بس ہوگیا۔
فارسٹ رینجرز کے مطابق ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے چٹانیں اسی انداز میں بنی ہوں کہ کوئی شخص ان میں پھنس جائے۔
اگرچہ متاثرہ شخص غار کے داخلی راستے سے صرف 400 فٹ دور تھا، لیکن تنگ جگہ اور مشکل راستے کے باعث اسے نکالنا انتہائی دشوار ثابت ہوا۔
اس کے دوست فوری طور پر غار سے باہر نکلے اور امدادی ٹیم کو اطلاع دی، جس کے بعد ریسکیو اہلکار رات 9 بجے موقع پر پہنچے۔
ریسکیو حکام کے مطابق انہوں نے تقریباً دو گھنٹے کی مسلسل کوشش کے بعد پہلے اس کے جسم کو چند انچ سرکایا، پھر ڈرلنگ اور ہتھوڑوں کی مدد سے چٹان کا حصہ توڑ کر اسے آزاد کرایا۔
متاثرہ شخص کو رات دو بجے غار سے نکالا گیا۔
حیران کن طور پر چھ گھنٹے تک پھنسے رہنے کے باوجود وہ شخص پوری کارروائی کے دوران مذاق کرتا رہا اور اس کے حوصلے بلند رہے۔
طبی معائنے کے بعد بتایا گیا کہ خوش قسمتی سے وہ کسی بڑی چوٹ سے محفوظ رہا۔
امریکی شخص چمگادڑوں والی تنگ غار میں 6 گھنٹے پھنسا رہا
