Baaghi TV


آبنائے ہرمز کشیدگی سے پاکستان کی گوشت برآمدات متاثر

‎ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی کشیدگی نے پاکستان کی گوشت برآمدات کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔
‎آبنائے ہرمز میں غیر یقینی صورتحال، بحری جہاز رانی میں رکاوٹ اور بڑھتے انشورنس و ایندھن اخراجات کے باعث خلیجی ممالک کو گوشت کی ترسیل مہنگی اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔
‎پاکستان سے گوشت کی بڑی مقدار متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، کویت، قطر، بحرین، عمان اور اردن کو برآمد کی جاتی ہے، تاہم حالیہ بحران کے بعد برآمد کنندگان شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
‎گوشت برآمد کرنے والی کمپنی “دی آرگینک میٹ” کے چیف آپریٹنگ آفیسر علی حسین نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جنگی صورتحال کے باعث سمندری راستوں میں خلل آیا جس سے گوشت کی ایکسپورٹ بری طرح متاثر ہوئی۔
‎انہوں نے کہا کہ “دبئی پاکستان کے بڑے گوشت درآمد کنندگان میں شامل ہے، مگر کشیدگی کے بعد سمندری راستے متاثر ہوئے اور اب زیادہ تر ترسیل فضائی راستوں سے کی جا رہی ہے۔”
‎علی حسین کے مطابق فضائی راستے سے برآمدات کے اخراجات سمندری راستے کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ ہیں، جس کے باعث گوشت کی قیمتوں اور قوتِ خرید دونوں پر اثر پڑ رہا ہے۔
‎انہوں نے مزید بتایا کہ کویت کو کئی ہفتوں تک گوشت کی ترسیل معطل رہی جبکہ اب عمان کے راستے ٹرکوں کے ذریعے گوشت پہنچایا جا رہا ہے۔
‎ان کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صرف گوشت ہی نہیں بلکہ پھل، سبزیاں اور دیگر پاکستانی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔
‎دوسری جانب ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب جہانگیر نے کہا کہ بحران کے باوجود حکومت اور برآمد کنندگان نے متبادل انتظامات کے ذریعے سپلائی چین برقرار رکھنے کی کوشش کی۔
‎انہوں نے بتایا کہ سعودی اور قطری ایئر لائنز کے ساتھ خصوصی ریٹس طے کیے گئے جبکہ کچھ گوشت خصوصی پروازوں کے ذریعے بھی خلیجی ممالک بھیجا گیا۔
‎ٹڈاپ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان نے 2023 اور 2024 کے دوران تقریباً 50 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا 99 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گوشت برآمد کیا۔
‎اعداد و شمار کے مطابق متحدہ عرب امارات پاکستانی گوشت کی سب سے بڑی منڈی رہا جہاں 31 کروڑ 30 لاکھ ڈالر مالیت کا گوشت برآمد کیا گیا جبکہ سعودی عرب کو 17 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اور کویت کو 9 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا گوشت بھیجا گیا۔

More posts