سندھ کی معروف گلوکارہ صنم سندھو نے الزام عائد کیا ہے کہ شکارپور میں ایک شادی کی تقریب کے دوران اُن اور اُن کی ٹیم پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد پولیس نے واقعے کی رپورٹ درج کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرا دی ہے۔
صنم سندھو کے مطابق انہیں لکھ برادری کی جانب سے نیو فوجداری تھانے کی حدود میں واقع میرانی علاقے میں ایک شادی کی تقریب میں پرفارم کرنے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔گلوکارہ نے بتایا کہ تقریب کے دوران بعض افراد نشے کی حالت میں تھے اور انہوں نے بدتمیزی شروع کر دی۔ صنم سندھو کا کہنا تھا کہ میزبان بھی نشے میں غیر اخلاقی حرکات کرتا رہا۔انہوں نے الزام لگایا کہ تقریب کے دوران اُن پر حملہ کیا گیا جبکہ اُن کی پوری ٹیم، بشمول اُن کے چھوٹے بھائی، کو بھی شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔صنم سندھو کے مطابق اس واقعے کے باعث اُن کی ٹیم میں خوف و ہراس پھیل گیا اور تمام افراد شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے۔
گلوکارہ نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں اور اُن کی ٹیم کو کئی گھنٹوں تک یرغمال بنا کر رکھا گیا جبکہ اُن کا موسیقی کا سامان بھی چھین لیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پرفارمنس کے لیے طے شدہ معاوضہ بھی ادا نہیں کیا گیا۔صنم سندھو نے صوبائی وزیر ثقافت، آئی جی سندھ اور دیگر متعلقہ حکام سے واقعے کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی اور فنکاروں کو تقریبات میں تحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔دوسری جانب ایس ایس پی کلیم ملک نے بتایا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف رپورٹ درج کر لی گئی ہے اور شکایت میں نامزد افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔اس واقعے کے بعد سندھ میں نجی تقریبات میں پرفارم کرنے والے فنکاروں اور ثقافتی شخصیات کی سکیورٹی کے حوالے سے تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔
