Baaghi TV

تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر:تابندہ طارق عکس

جاڑے کا موسم عروج پر تھا۔گہرے کالے بادل،ہر طرف دھند ہی دھند اور دھند سے اٹھتا ہوا دھواں باہر کے ماحول کو شفافیت سے محروم کر رکھا تھا،وہاں ایک گاؤں آباد تھا جس میں ہزاروں گھر تھے،ان ہزاروں گھروں میں ایک گھر ایسا بھی تھا جس کی در و دیوار پر ہاتھوں کی دلکش کشیدہ کاری کی گئی تھی۔ہاتھ کے باریک پھول دار لکڑی کے بڑے بڑے دروازے تھے جو اس گھر کی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہے تھے۔جیسے کسی راجا مہاراجہ کے محل کا گمان ہوتا ہو۔گہری دھند میں چودھویں کے چاند کا عروج مندمل ہوچکا تھا۔چاند کے ارد گرد اڑتا دھواں کبھی چاند کو نمایاں کرتا اور کبھی اوجھل کر دیتا۔لیکن یہ دھواں صرف آسمان پر نہیں تھا بل کہ اس شاندار گھر جس کو دیکھتے ہی کسی محل کا گمان ہوتا تھا اس گھر کے ایک کمرے کی باہر سے کھڑکیوں کے شیشے دھندلکے ہو رہے تھے۔کمرے کے اندر بھی کھڑکیوں کے شیشے داغ دار ہو چکے تھے،ان پر دھواں پڑ پڑ کر اب شیشے سے زیادہ دھواں دھار جمی ہوئی تہہ دکھائی دیتی تھی۔اس کمرے سے دھواں اٹھتا ہوا کمرے میں پھیلتا جا رہا تھا کمرے کے گوشے گوشے میں دھواں رقص کر رہا تھا اور سرخ مائلی روشنی کسی موم بتی کی طرح روشن تھی۔دروازے پر دستک ہوئی جیسے کسی نے اسے پیچھے کی سمت کھولنے کی کوشش کی ہو۔ہلکی قدموں کی چاپ سے کوئی اندر داخل ہوا، آندھرا اور دھواں اس کے ساتھ سرخ مائلی روشنی مدھم جگنو کی مانند ٹمک رہی تھی۔ایک آواز نے سارا ماحول بدل دیا تھا۔
"سائیں! آپ اندھیرے میں بیٹھ کر آج پھر سگریٹ پر سگریٹ سلگائے جا رہے ہیں۔”
بورڈ پر لگے بٹن کی آواز کے ساتھ کمرہ روشن ہو گیا۔
"ٹک۔”
ایک ٹرے اس میں رکھا کپ اور کپ سے نکلتی بھاپ جو گرم ہونے کا تاثر دے رہی تھی۔چائے پکڑتے ہوئے گویا ہوئی۔
"یہ آپ کی چائے۔”
"شہر بانو! آج بہت سردی ہے۔شکر ہے تم چائے لے آئی۔”
وہ بلنگ کی دوسری طرف آکر بیٹھ گئی اور پھر سے کہنے لگی۔
"سائیں! آپ اتنے سگریٹ مت پیا کریں،آپ جانتے ہیں یہ اچھی چیز نہیں ہے۔”

"شہر بانو! سردیوں کی طویل راتیں،ماضی کے گہرے دکھ،آج کے گہرے سناٹے اور یہ خالی حویلی جیسے جیسے میرا جی جلاتے ہیں ویسے ہی میں اس سگریٹ سے اپنے اندر کے خلا کو جلانے کی کوشش کرتا ہوں۔”

سائیں خیر دین جہاں دیدہ گھاگ تھا،لیکن عمر کے اس حصے میں اسے اولاد کے نہ ہونے کا دکھ اس پر تیر تلوار کی طرح کاٹتا تھا دوسری طرف شہر بانو بھی گہرے صدمے میں تھی لیکن اس کے باوجود وہ اپنے دکھ پر ضبط کر لیتی،اپنی گہری نشیلی آنکھوں میں آنسوؤں کے امنڈنے والے سمندر کو پیتی رہتی۔لیکن وہ سائیں کے سامنے خود کو بہت مضبوط ظاہر کرتی۔چائے پینے کے بعد وقت دیکھا تو کافی رات گزر چکی تھی۔لائٹ آف کرکے دونوں سو گئے۔کچھ گھنٹوں بعد اچانک ایک طرف باہر بادل گرجنے کی آواز دھرتی کو جھنجھوڑ رہی تھی اور دوسری طرف اچانک سائیں کو کھانسی کا دورہ پڑا یہ کھانسی کا دورہ بہت شدید تھا اتنا کے شہر بانو ڈر کے مارے جلدی سے آٹھ کھڑی ہوئی۔لائٹ آن کی اور جلدی سے پانی لینے کے لیے کمرے سے باہر گئی لیکن جب واپس آئی تو سائیں کی حالت دیکھ کر پانی کا گلاس ہاتھ سے چھوٹ کر گرا اور ٹوٹ گیا۔
"سائیں! یہ کیا ہوا آپ کو؟”
سائیں کھانستے کھانستے زمین پر گر پڑا تھا اور اس کے منہ سے خون رسنے لگا۔شہر بانو نے جلدی سے اٹھانے کی کوشش کی اور با مشکل بیڈ پر لیٹا کر منہ سے خون صاف کیا۔پھر جلدی سے اپنے رشتے داروں کو کال کرنے لگی لیکن رات کافی ہوچکی تھی اسی لیے کوئی بھی کال نہیں اٹھا رہا تھا۔گاؤں کے قریب ایک ہسپتال تھا شہر بانو نے وہاں کال کرکے ایمرجینسی ایمبولینس سے مدد لی اور سائیں کو ہسپتال لے گئی۔ڈاکٹر نے فورا چیک کیا اور کچھ ٹیسٹ لکھ کر نرس کو دیے اور کہا۔
"نرس! یہ ٹیسٹ جلد از جلد کروائیں اور جیسے ہی رپورٹ آ جائے فورا مجھے مطلع کیجیے۔”
شہر بانو ساری رات روتی رہی دعائیں کرتی رہی۔صبح ہوتے ہی ڈاکٹر وارڈ میں آیا تو شہر بانو جھٹ سے کہنے لگی۔
” ڈاکٹر صاحب! یہ ٹھیک تو جائیں گے نا زیادہ خطرے والی بات تو نہیں ہے نا؟”

” حد سے زیادہ تمباکو نوشی کی وجہ سے ان کے پھیپھڑے خراب ہو گئے ہیں اور انہیں کینسر بھی ہے۔آپ کوشش کیجیے یہ تمباکو نوشی ترک کر دیں۔کینسر ابھی دوسری سٹیج پر ہے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے احتیاط ہی اب ان کی زندگی بچا سکتی ہے۔ورنہ سوری۔”
شہر بانو یہ سنتے ہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔سائیں کے پاس گئی اس کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کا لمس رکھا جس سے سائیں کی نیم غنودگی والی آنکھیں دھیرے دھیرے کھلنے لگی۔وہ کپکپاتی آواز سے کہنے لگا۔
"شہر بانو! تم کیوں رو رہی ہو؟ دیکھو! میں بالکل ٹھیک ہوں۔”
شہر بانو نے پہلی بار رعب دار آواز میں کہا۔
"آج آپ کی ایک سخت فیصلہ کرنا ہے آپ بتائیں آپ کے لیے زیادہ اہم کون ہے میں یا پھر سگریٹ؟”

"تم سے زیادہ اہم کوئی نہیں ہے میرے لیے شہر بانو!”
شہر بانو نے اپنے رخسار سے اپنے پلو سے آنسوؤں کو صاف کیا اور کہنے لگی۔
"آپ کے لیے میں اہم ہوں،تو میں آپ سے آج پوری زندگی کا پہلا تحفہ مانگتی ہوں خدارا سگریٹ چھوڑ دیجیے۔”
"تم نے زندگی میں مجھ سے پہلی بار کچھ مانگا ہے،آج تمہارے لیے سگریٹ کو ترک کر دیا ہے۔”
شہر بانو آج بہت خوش تھی۔وقت گزرتا گیا لیکن اس دن کے بعد سائیں نے کبھی بھی سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا۔مکمل علاج کروانے کے بعد آج وہ اپنی زندگی پرسکون جی رہے تھے اور باقی لوگوں کو بھی تمباکو نوشی ترک کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہتے۔
"تمباکو سے پاک پاکستان۔”

More posts