Baaghi TV

تمباکو سے پاک پاکستان ،تحریر: سیدہ الماس فاطمہ

ہمارے ملک پاکستان کی سر زمین کو تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے لیے سب سے پہلے حکومت کو اقدامات کرنے ہوں گے ـ منشیات مافیا کے خلاف قانونی کارروائی کر کے ان کے اڈوں کا خاتمہ کرنا چاہیے تاکہ منشیات کا دھندا بند ہو جائےـ
نوجوانوں کی تعلیم و تربیت کو فروغ دیا جائےـ والدین اپنے بچوں کی نگرانی کریں-
نوجوان نسل کی تربیت دینے میں کوشاں رہنا چاہیے تاکہ لڑکے بری صحبت اختیار نہ کریں-

غربت کا شکار عوام کو سہولیات فراہم کی جائے۔ ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے امداد کی جائے تاکہ ان کے بچے کسی غلط کام میں ملوث نہ ہوں، غریب عوام کی خدمت کے لیے تعلیمی نظام بنایا جانا چاہیے اور بہترین روزگار ، مہنگائی کا خاتمہ کیا جائے- ہمارے ملک پاکستان میں ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ مہنگائی اور بےروزگاری ہے۔

ہمارے ملک پاکستان میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے طوفان نے انسان کو ذہنی دباؤ کا شکار کیا ہوا ہے – ایک وجہ بےایمانی ، چوری، دہشت گردی،کھلے عام ڈکیتی ہو رہی ہے۔

تمباکو نوشی سے پاک کرنے کے لیے اپنی عادت کو بدلنا ہو گا۔جب تمباکو کھانے کا دل چاہتا ہو تو اس کی جگہ پر سونف یا تل، بادام، کاجو، اخروٹ وغیرہ کھانے کی عادت ڈالیں۔ چاکلیٹ کھائیں۔ تمباکو نوشی سے پاک پاکستان بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں تعلیم کی کمی کی وجہ سے کم سن بچے غلط صحبت اختیار کرتے ہیں ۔۔ باہر نکل کر نشے کرنے والوں کے ہاتھوں سے برباد ہو رہے ہیں اور نشے کی لت پڑ جاتی ہے ۔ امیر طبقے کے لوگوں کے والدین نے بچوں کو آزادی دے کر بگاڑا ہوا ہوتا ہے اور ان کے بچے کہاں بیٹھتے اٹھتے ہیں ۔ انہیں فکر نہیں ہوتی نوجوان نسل کو نشے کی لت لگ جاتی ہے ۔ اور والدین بے خبر رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ آ ج کل ہمارے معاشرے میں سب سے زیادہ رجحان موبائل کا استعمال ہو چکا ہے ۔سب سے زیادہ خطرناک ترین صورتحال ہوچکی ہے ۔ موبائل ایک نشہ بن چکا ہے ۔ جس کی وجہ سے زندگی کے حالات میں بیشتر تبدیلی آچکی ہے ۔ آ پس کے تعلقات رشتوں میں دوری کی وجہ بھی یہی ہے ۔ پہلے کے اخلاقیات میں کمی، وقت کی کمی ہونے کی صورت میں معاشرتی تلخیاں بڑھتی جا رہی ہیں ۔موبائل کے نشے کی لت سے چھٹکارا پانے کے لیے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، بڑے ہوں یا بچے ، نوجوان نسل نشے سے تباہی کا شکار ہو رہی ہے ۔ کچھ سمجھ دار لوگ موبائل سے آ ن لائن کاموں کو کر کے فائدے بھی حاصل کررہے ہیں اور دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ نشے کی مختلف اقسام ہیں ۔ مثال کے طور پر تمباکو نوشی ، پان، سگریٹ ، گوٹکا ،چھالیہ ، شیشہ پینے کا رواج عام ہو گیا ہے ۔

بچوں کی پہلی درسگاہ اس کا اپنا گھر ہوتا ہے ۔ جہاں تربیت ملتی ہے ۔پرورش کے ساتھ تربیت اور اچھی تعلیم دونوں ضروری ہوتی ہے ۔ ایک کامیاب زندگی بسر کرنے کے لیے بہترین معاشرے کی تشکیل دینے کی ضرورت ہے ۔اچھے سکول کے ساتھ بچوں کی اچھی پڑھائی کا ہونا لازمی ہے۔تعلیم یافتہ اساتذہ کا ہونا بہت ضروری ہے ۔اچھی تعلیم معاشرے کی اصلاح کر سکتی ہے ۔معاشرہ بہترین ہو گا تو ملک پاکستان کی ترقی کے لیے کوشاں ہو گا ۔ہمارےملک پاکستان کے لیے ہر فرد اہم ہے ۔معاشرے کی نشوونما کے لیے ماں کو فکر مند ہونا چاہیے ۔غریب گھرانے کے بچوں کی تعلیم کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہیے ۔ہر پاکستانی بچہ اہم ہے ۔
نشے سے چھٹکارے کے لیے حکومت کو قدم اٹھانا ہوگا۔

More posts