Baaghi TV

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی کا بھارت واپسی اوراحتجاج کا اعلان

india

کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے بانی ابھیجیت دپکے نے اعلان کیا ہے کہ وہ 6 جون کو امریکا سے بھارت واپس آ کر مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے لیے نئی دہلی کے جنتر منتر پر پُرامن احتجاج کریں گے۔

ابھیجیت دپکے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ وہ ملک واپس آ کر ان طلبہ کے حق میں آواز اٹھانا چاہتے ہیں جو مختلف امتحانات سے متعلق تنازعات اور مسائل سے متاثر ہوئے ہیں انہوں نے خاص طور پر ”نِیٹ“ امتحان کے پرچہ لیک ہونے کے معاملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعے سے لاکھوں طلبہ کی محنت متاثر ہوئی اور کئی طلبہ شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے اس بڑے بحران کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ لوگ آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کریں اور حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں اگر شہری متحد ہو کر اپنی بات رکھیں تو حکومت کو ان کی آواز سننی پڑے گی، نیٹ، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحا نات سے وابستہ ایک کروڑ سے زائد طلبہ نظام کی ناکامیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات نے نوجوانوں کو اپنے مستقبل کے حوالے سے بے چینی اور غیر یقینی صورتحال میں مبتلا کر دیا ہےان مسائل کی ذمہ داری کون قبول کرے گا؟دپکے نے طلبہ اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے آئینی حق کا استعمال کرتے ہوئے حکومت سے جوابدہی کا مطالبہ کریں اور احتجاج میں شرکت کریں اگر اتنے بڑے تنازعات کے باوجود وزیر تعلیم اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے تو اس سے نظام میں جوابدہی کے فقدان کا تاثر پیدا ہوتا ہے۔

اپنے مجوزہ دورۂ دہلی کی تفصیلات بتاتے ہوئے دپکے نے کہا کہ وہ 6 جون کی صبح دہلی پہنچنے کا ارادہ رکھتے ہیں انہوں نے اپنے حامیوں سے اپیل کی کہ وہ ہوائی اڈے پر ان کا استقبال کریں، جس کے بعد وہ سب مل کر پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن جائیں گے اور جنتر منتر پر پرامن احتجاج کی اجازت طلب کریں گےتحریک مکمل طور پر پرامن ہوگی اور اس کا مقصد جمہوری اور آئینی طریقوں کے ذریعے اپنے تحفظات کو اجاگر کرنا ہے بھارتی آئین شہریوں کو پرامن انداز میں اپنی آواز بلند کرنے کا حق دیتا ہے اور وہ اسی حق کے تحت احتجاج کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے اہل خانہ اور دوستوں کو خدشہ ہے کہ بھارت واپسی پر انہیں گرفتار کیا جا سکتا ہے، تاہم وہ امید رکھتے ہیں کہ ملک کے جمہو ر ی نظام میں انہیں پرامن احتجاج کی اجازت دی جائے گی دپکے نے خود کو مہاتما گاندھی، بی آر امبیڈکر، بھگت سنگھ اور جواہر لال نہرو کے نظریات کا حا می قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی آئین اور جمہوری اقدار پر مکمل یقین رکھتے ہیں خوف کے ماحول میں ہمیشہ نہیں جیا جا سکتا اور ملک تمام شہریوں کا ہے نوجو انوں کے مستقبل سے جڑے مسائل پر خامو ش رہنے کے بجائے پرامن اور جمہوری انداز میں آواز اٹھانا ضروری ہے۔

دپکے نے بتایا کہ حالیہ دنوں میں انہیں امریکہ میں متعدد ملازمتوں کی پیشکش ہوئی تھی، لیکن انہوں نے انہیں قبول کرنے کے بجائے بھار ت واپس آنے کا فیصلہ کیا وہ اپنے ملک سے محبت کرتے ہیں اور اس کے لیےکچھ کرناچاہتے ہیں کیونکہ جو کچھ وہ آج ہیں، وہ اپنے ملک کی بدولت ہیں-

واضح رہے کہ ابھجیت دپکے گزشتہ کچھ عرصے سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے نمایاں ناقدین میں شمار ہوتے ہیں، خاص طور پر نیٹ یو جی 2026 امتحان کی منسوخی کے بعد، جسے مبینہ پرچہ لیک کے الزامات کے باعث منسوخ کیا گیا تھا یہ امتحان اب 21 جون 2026 کو دوبارہ مقرر کیا گیا ہے تاہم حکومت یا وزیر تعلیم کی جانب سے دپکے کے تازہ مطالبات پر فوری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے جبکہ سی جے پی کے قیام کے بعد یہ دپکے کا بھارت کا پہلا دورہ ہوگا، جبکہ ان کی جماعت کو سوشل میڈیا پر خاصی توجہ حاصل ہوئی ہے۔

More posts