آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ سے قبل آل پاکستان کلرکس ایسوسی ایشن (ایپکا) نے سرکاری ملازمین کے لیے بڑے مالی ریلیف کا مطالبہ کرتے ہوئے حکومت کے سامنے 6 نکاتی چارٹر پیش کر دیا ہے۔ تنظیم نے تنخواہوں اور الاؤنسز میں نمایاں اضافے کے مطالبات کے ساتھ اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔
ایپکا کی مرکزی قیادت کے مطابق ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، اشیائے ضروریہ کی بلند قیمتوں اور روزمرہ اخراجات میں اضافے نے سرکاری ملازمین کو شدید مالی مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔ اسی تناظر میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ملازمین کی بنیادی تنخواہوں میں فوری طور پر 200 فیصد اضافہ کیا جائے۔
تنظیم نے اپنے مطالبات میں ہاؤس رینٹ الاؤنس، میڈیکل الاؤنس اور دیگر مراعات میں 500 فیصد اضافے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ایپکا کا مؤقف ہے کہ موجودہ الاؤنسز مہنگائی کی موجودہ شرح کے مقابلے میں انتہائی ناکافی ہو چکے ہیں اور ملازمین کی ضروریات پوری نہیں کر پا رہے۔
اپنے 6 نکاتی ایجنڈے میں ایپکا نے سرکاری اداروں کی ممکنہ نجکاری کے عمل کو بھی فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ نجکاری سے ملازمین کے روزگار اور مستقبل سے متعلق خدشات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ایپکا رہنماؤں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں میں مہنگائی کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جس نے متوسط اور کم آمدنی والے سرکاری ملازمین کی معاشی حالت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ تنخواہوں کے ساتھ گھریلو اخراجات پورے کرنا مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔
تنظیم نے اپنے مطالبات کے حق میں دو جون کو اسلام آباد میں ملک گیر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایپکا کا کہنا ہے کہ ملک بھر سے سرکاری ملازمین اور کلرک بڑی تعداد میں وفاقی دارالحکومت پہنچیں گے تاکہ اپنے مطالبات حکومت تک مؤثر انداز میں پہنچا سکیں۔
اطلاعات کے مطابق احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد کی انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سکیورٹی انتظامات سخت کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بجٹ سے قبل سرکاری ملازمین کی جانب سے سامنے آنے والے یہ مطالبات حکومتی مالی پالیسیوں پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
ایپکا کا تنخواہوں میں 200 فیصد اور الاؤنسز میں 500 فیصد اضافے کا مطالبہ
