کراچی میں پانی کا بحران سنگین صورتحال اختیار کر گیا ہے، جس کے باعث لاکھوں شہری شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ شدید گرمی اور حبس کے موسم میں پانی کی قلت نے عوام کی پریشانیوں میں مزید اضافہ کر دیا ہے، جبکہ کئی علاقوں میں لوگ بنیادی ضرورت کے لیے بھی پانی حاصل کرنے سے محروم ہیں۔
شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی عدم فراہمی کے خلاف شہری سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین نے حکومت اور متعلقہ اداروں کے خلاف شدید نعرے بازی کرتے ہوئے فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن نے اس بحران کا ذمہ دار کے الیکٹرک کو قرار دیا ہے۔ واٹر کارپوریشن کے ترجمان کے مطابق 31 مئی کو کے الیکٹرک کی مین کیبل میں فنی خرابی پیدا ہوئی، جس کے نتیجے میں نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی معطل ہو گئی تھی۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ بجلی کی بندش کے باعث کے ٹو (K-II) اور کے تھری (K-III) پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی ترسیل شدید متاثر ہوئی، جس سے شہر کو روزانہ تقریباً 122 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ اس صورتحال نے ضلع وسطی، ضلع غربی اور دیگر کئی علاقوں میں پانی کے بحران کو مزید گہرا کر دیا۔
واٹر کارپوریشن کے مطابق بجلی کی فراہمی متاثر ہونے سے پمپنگ آپریشن رکاوٹ کا شکار ہوا، جس کے باعث سپلائی سسٹم میں خلل پیدا ہوا اور شہریوں تک پانی کی ترسیل متاثر ہوئی۔ کئی علاقوں میں ٹینکر مافیا کی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا، جس سے شہریوں کے مسائل مزید بڑھ گئے۔
بعد ازاں واٹر کارپوریشن نے بتایا کہ کے الیکٹرک کی جانب سے مین کیبل میں پیدا ہونے والی خرابی کو دور کر دیا گیا ہے اور نارتھ ایسٹ کراچی پمپنگ اسٹیشن کی بجلی بحال ہو چکی ہے۔ بجلی کی بحالی کے بعد کے ٹو اور کے تھری پمپنگ اسٹیشنز سے پانی کی فراہمی دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔
تاہم حکام کا کہنا ہے کہ سپلائی لائنوں میں پریشر بحال ہونے اور پانی کی ترسیل مکمل طور پر معمول پر آنے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پانی کی فراہمی بتدریج بہتر ہو رہی ہے اور آئندہ چند گھنٹوں میں صورتحال معمول پر آنے کی توقع ہے۔
کراچی میں پانی کا شدید بحران، شہری سراپا احتجاج
