مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ 5 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا، جس میں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 4264 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق وفاق اور صوبوں کے ترقیاتی پروگراموں کو ملکی ترقی، انفراسٹرکچر کی بہتری اور عوامی فلاحی منصوبوں کے فروغ کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
دستاویزات کے مطابق مجموعی ترقیاتی بجٹ میں وفاقی حکومت کے ترقیاتی پروگرام کا حجم 1126 ارب روپے ہوگا، جبکہ چاروں صوبوں کے سالانہ ترقیاتی پروگراموں کے لیے مجموعی طور پر 3138 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال میں صوبوں کے اپنے وسائل سے چلنے والے ترقیاتی منصوبوں کا مجموعی حجم 2478 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے غیر ملکی امداد اور مالی تعاون کی مد میں 660 ارب روپے فراہم کیے جانے کی تجویز بھی شامل ہے۔
صوبوں کے ترقیاتی بجٹ کے جائزے کے مطابق پنجاب سب سے بڑے ترقیاتی پروگرام کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہے۔ پنجاب کے لیے 1450 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جس میں 1306 ارب روپے صوبائی وسائل سے جبکہ 144 ارب روپے غیر ملکی امداد سے حاصل کیے جائیں گے۔
سندھ کے لیے مجموعی ترقیاتی پروگرام کا حجم 816 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ اس میں 520 ارب روپے مقامی وسائل سے جبکہ 296 ارب روپے بیرونی امداد اور ترقیاتی شراکت داریوں کے ذریعے فراہم کیے جانے کا امکان ہے۔
خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے 564 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس رقم میں 377 ارب روپے صوبائی وسائل سے جبکہ 187 ارب روپے غیر ملکی امداد کی صورت میں فراہم کیے جائیں گے۔
بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام تجویز کیا گیا ہے، جس میں 275 ارب روپے مقامی وسائل اور 33 ارب روپے بیرونی امداد سے حاصل کیے جانے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش ہوگا، ترقیاتی پروگرام کا حجم 4264 ارب روپے
