Baaghi TV


پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس 3300 پوائنٹس سے زائد گر گیا

‎پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ہفتے کے پہلے کاروباری روز شدید مندی دیکھنے میں آئی، جہاں سرمایہ کاروں کی جانب سے فروخت کے دباؤ کے باعث مارکیٹ نمایاں خسارے کے ساتھ بند ہوئی۔ کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 3362 پوائنٹس کی کمی کے بعد 170600 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا۔
‎مارکیٹ میں دن بھر منفی رجحان غالب رہا اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ سرمایہ کاروں نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے حصص کی فروخت کو ترجیح دی، جس کے باعث مارکیٹ پر دباؤ بڑھتا چلا گیا۔
‎معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ مندی کی بڑی وجہ ایران اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑھتی ہوئی کشیدگی ہے، جس نے عالمی مالیاتی منڈیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو بھی متاثر کیا ہے۔ خطے میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی دیکھی گئی۔
‎تجزیہ کار شہریار بٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے سرمایہ کاروں کو امید تھی کہ امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے کی پیش رفت سامنے آئے گی، جس سے خطے میں کشیدگی کم ہو سکتی تھی۔ تاہم ایسا نہ ہونے کے باعث عالمی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
‎ماہرین کا کہنا ہے کہ خام تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد سرمایہ کاروں نے ممکنہ معاشی اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط حکمت عملی اختیار کی۔ پاکستان چونکہ تیل درآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے، اس لیے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ملکی معیشت، درآمدی بل اور مہنگائی پر اضافی دباؤ ڈال سکتا ہے۔
‎معاشی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی قیمتیں مزید بڑھیں تو اس کے اثرات پاکستان کی مالیاتی منڈیوں اور سرمایہ کاری کے ماحول پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے سرمایہ کار بین الاقوامی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔
‎تجزیہ کاروں کے مطابق آنے والے دنوں میں عالمی سیاسی حالات، تیل کی قیمتوں اور اقتصادی اشاریوں کی سمت پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی پر اہم اثر ڈال سکتی ہے۔

More posts