کراچی کی مصروف ترین شاہراہوں میں شامل شارع فیصل پر لین ڈسپلن کے نفاذ کے پہلے ہی روز ٹریفک پولیس نے بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 96 فیس لیس چالان جاری کیے۔ حکام کے مطابق تمام چالان ممنوعہ لین میں گاڑیاں چلانے پر کیے گئے۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون کو میٹروپول سے ایئرپورٹ اور ایئرپورٹ سے میٹروپول جانے والی سڑکوں پر خصوصی نگرانی کی گئی، جہاں مختلف اقسام کی گاڑیوں کو لین قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پایا گیا۔ جدید کیمروں اور مانیٹرنگ سسٹم کی مدد سے خلاف ورزی کرنے والوں کے فیس لیس چالان جاری کیے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 43 موٹر سائیکل سواروں کے چالان کیے گئے۔ اس کے علاوہ 21 سوزوکی پک اپ گاڑیوں، 6 منی بسوں، 4 وینز، 3 منی ٹرکوں، 3 بڑے ٹرکوں، 2 بڑی بسوں، 2 کوسٹرز، 2 واٹر ٹینکروں اور ایک ڈبل کیبن گاڑی کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔
ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی کے تحت مختلف اقسام کی گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز مقرر کی گئی ہیں۔ موٹر سائیکلوں، کمرشل گاڑیوں اور بھاری ٹریفک کو تیسرے اور چوتھے ٹریک پر سفر کرنے کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ ٹریفک کی روانی بہتر بنائی جا سکے اور حادثات میں کمی لائی جا سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ صرف ممنوعہ لین میں گاڑی چلانے والے ہی نہیں بلکہ فاسٹ لین میں غیر ضروری طور پر آہستہ رفتار سے گاڑی چلانے والوں کے خلاف بھی فیس لیس چالان جاری کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق فاسٹ لین کا مقصد تیز رفتار اور روان ٹریفک کے لیے راستہ فراہم کرنا ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ لین ڈسپلن کے اس نظام کا مقصد شہریوں میں ٹریفک قوانین کے بارے میں شعور پیدا کرنا اور شاہراہوں پر بہتر نظم و ضبط قائم کرنا ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی آئندہ بھی جاری رہے گی۔
شارع فیصل پر لین خلاف ورزی، پہلے روز 96 چالان جاری
