Baaghi TV


اے پی ایس شہداء پیکیج کیس، سپریم کورٹ کا وفاق سے جواب طلب

‎سپریم کورٹ آف پاکستان نے آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس) کے شہداء کے لواحقین کو اعلان کردہ پیکیج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے استفسار کیا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا یا نہیں۔
‎کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عرفان سعادت نے نشاندہی کی کہ درخواست مقررہ مدت سے 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی تھی۔
‎یہ درخواست اے پی ایس شہداء کے لواحقین کی جانب سے دائر کی گئی تھی، جس میں پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے اور توہین عدالت کے نکات اٹھائے گئے تھے۔ تاہم پشاور ہائی کورٹ نے توہین عدالت کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔
‎درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومت کی جانب سے شہداء کے لواحقین کے لیے جس مالی اور فلاحی پیکیج کا اعلان کیا گیا تھا، وہ تمام متاثرہ خاندانوں کو فراہم نہیں کیا گیا۔
‎سماعت کے دوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر حکومت نے کسی پیکیج کی منظوری دی ہے تو اس کا فائدہ تمام مستحق لواحقین کو ملنا چاہیے۔ انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ عدالت کو واضح طور پر بتایا جائے کہ پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر کس حد تک عملدرآمد کیا گیا ہے۔
‎عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔ آئندہ سماعت میں حکومت کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رپورٹ اور جواب کا جائزہ لیا جائے گا۔

More posts