کراچی میں منشیات سپلائی کرنے کے الزام میں گرفتار ملزمہ انمول عرف پنکی کے کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پولیس نے ملزمہ کے مبینہ سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دی ہیں، جنہیں تفتیش میں اہم دستاویزی ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
عدالت میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق منشیات سے حاصل ہونے والی رقوم کی منتقلی اور مالی لین دین مبینہ طور پر دو اہم سہولت کاروں، ذیشان اور سہیل، کے ذریعے انجام دیا جاتا تھا۔ پولیس کا مؤقف ہے کہ ان اکاؤنٹس کے ریکارڈ سے منشیات کے کاروبار سے وابستہ مالی سرگرمیوں کا سراغ مل سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ ملزم ذیشان کے تین مختلف بینکوں میں مجموعی طور پر پانچ اکاؤنٹس موجود تھے، جبکہ دوسرے مبینہ سہولت کار سہیل کے دو مختلف بینکوں میں دو اکاؤنٹس فعال تھے۔ تفتیشی حکام کے مطابق یہ تمام اکاؤنٹس براہ راست انہی افراد کے زیر استعمال تھے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ بینک ریکارڈ میں موجود مالی لین دین کی تفصیلات سے یہ معلوم کیا جا سکتا ہے کہ رقوم کہاں سے موصول ہوئیں، کن اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں اور ان مالی سرگرمیوں سے کون کون سے افراد یا ادارے منسلک تھے۔
تفتیشی حکام کے مطابق اکاؤنٹس کے ڈیٹا کا فرانزک اور مالیاتی تجزیہ جاری ہے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس معلومات کی مدد سے مبینہ منشیات نیٹ ورک، خریداروں، سپلائرز اور دیگر سہولت کاروں تک پہنچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق مالی ریکارڈ کسی بھی منظم جرائم کے مقدمے میں اہم شواہد تصور کیے جاتے ہیں کیونکہ ان کے ذریعے رقوم کے بہاؤ اور نیٹ ورک کے ممکنہ روابط کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ تاہم مقدمے کے تمام ملزمان عدالت کے حتمی فیصلے تک قانوناً بے گناہ تصور کیے جاتے ہیں۔
انمول پنکی کیس، سہولت کاروں کے بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں جمع
