متحدہ عرب امارات کے صدر کے مشیر برائے سفارتی امور ڈاکٹر انور قرقاش نے کویت اور بحرین پر مبینہ ایرانی حملوں کے بعد خلیجی ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ خطے کی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک مضبوط، متحد اور مربوط مؤقف اختیار کریں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں ڈاکٹر انور قرقاش نے کہا کہ کسی بھی خلیجی ریاست کو تنہا نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق خلیجی ممالک کی سلامتی، مفادات اور مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے کسی ایک ملک پر حملہ درحقیقت پورے خطے کے امن و استحکام کو نشانہ بنانے کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں خلیجی اتحاد اور مشترکہ حکمت عملی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکی ہے۔ ان کے بقول خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا مقابلہ صرف مشترکہ تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کویت اور بحرین نے بدھ کی صبح ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بننے کی اطلاعات دی تھیں۔ دونوں ممالک کی جانب سے حملوں کی خبروں کے بعد ایران نے کہا تھا کہ امریکی فوجی اڈوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور یہ کارروائی جوابی اقدام کے طور پر کی گئی۔
کویتی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں کویت انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے بعض حصوں اور دیگر مقامات کو نقصان پہنچا۔ وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق واقعے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جن میں ایئرپورٹ کا عملہ اور مسافر بھی شامل ہیں۔ قبل ازیں حکام نے ایک ہلاکت کی بھی تصدیق کی تھی۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خلیجی ممالک میں سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے اور مختلف ممالک صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے سفارتی رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق حالیہ پیش رفت مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے اور علاقائی سلامتی کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔
خلیجی ممالک ایران کے خلاف متحد مؤقف اپنائیں، انور قرقاش
