Baaghi TV


کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی، سرمایہ کاری کے فیصلے مؤخر

dollar

‎پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جہاں مجموعی بزنس کانفیڈنس انڈیکس 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد رہ گیا ہے۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی تازہ رپورٹ کے مطابق معاشی اور سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث بڑی تعداد میں کاروباری اداروں نے نئی سرمایہ کاری کے منصوبے روک دیے ہیں۔
‎رپورٹ کے مطابق 70 سے 80 فیصد کمپنیوں نے اپنے سرمایہ کاری کے فیصلے یا تو مؤخر کر دیے ہیں یا ان میں تبدیلی کر دی ہے۔ اس صورتحال کے نتیجے میں ملک میں نئی سرمایہ کاری کا اشاریہ 10 پوائنٹس کی کمی کے بعد صرف 2 فیصد پر آ گیا ہے، جو کاروباری ماحول کے حوالے سے تشویشناک اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔
‎اوورسیز انویسٹرز چیمبر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگ کے اثرات، سپلائی چین میں رکاوٹیں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بھاری ٹیکسز کاروباری اعتماد میں کمی کی بنیادی وجوہات ہیں۔ کاروباری برادری کو خدشہ ہے کہ موجودہ حالات میں لاگت میں مزید اضافہ اور منافع میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
‎رپورٹ کے مطابق 84 فیصد کاروباری اداروں نے مہنگائی کو ملک کی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، جبکہ 79 فیصد کے نزدیک زیادہ ٹیکسز کاروباری سرگرمیوں اور ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس کے علاوہ 61 فیصد کاروباری افراد ملکی کرنسی کی صورتحال، پالیسیوں کے تسلسل اور حکومتی فیصلوں کے حوالے سے بھی تشویش کا شکار ہیں۔
‎شعبہ جاتی سطح پر دیکھا جائے تو سب سے زیادہ منفی اثر سروسز سیکٹر پر پڑا ہے، جہاں کاروباری اعتماد میں 20 پوائنٹس کی نمایاں کمی دیکھی گئی۔ مینوفیکچرنگ سیکٹر کا اعتماد بھی 7 پوائنٹس نیچے آیا، جو صنعتی سرگرمیوں میں سست روی کی نشاندہی کرتا ہے۔
‎تاہم رپورٹ میں ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے۔ ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ ہے جہاں کاروباری اعتماد میں 20 فیصد تک بہتری ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح غیر ملکی یا ممبر کمپنیوں کے اعتماد میں بھی 28 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان کمپنیوں میں جدید ٹیکنالوجی خصوصاً جنریٹو اے آئی کے استعمال کا رجحان بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔
‎ملک کے بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کم ہو کر صرف 11 فیصد رہ گیا ہے۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر کا کہنا ہے کہ کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے معاشی پالیسیوں میں تسلسل، استحکام اور طویل المدتی حکمت عملی ناگزیر ہے۔
‎ماہرین کے مطابق اگر مہنگائی پر قابو پانے، ٹیکس نظام میں اصلاحات اور پالیسیوں میں استحکام لانے کے اقدامات نہ کیے گئے تو سرمایہ کاری اور معاشی سرگرمیوں پر مزید منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

More posts