Baaghi TV

اربوں کے ٹراما سینٹر کا انتظار چھوڑیں، ٹی ایچ کیو کی اپ گریڈیشن ہی سستا اور فوری حل

جی ٹی روڈ پر سسکتی زندگیوں کو ٹراما سینٹر نہیں، ہسپتال میں عملہ اور مشینری چاہیے نمائندگان خواب غفلت سے جاگیں
ریفر کا ڈیتھ وارنٹ ختم کریں سی ایم پنجاب سے امیدِ سحر ہسپتال کی اپ گریڈیشن سیاسی وعدہ نہیں زندگی اور موت کا مسلہ بن گیا
گوجرخان (قمرشہزاد)تحصیل گوجرخان کے لاکھوں عوام کے لیے صحت کی سہولیات کا حصول ایک ایسا خواب بن چکا ہے جس کی تعبیر حکومتی فائلوں میں گم ہے۔ جی ٹی روڈ پر واقع تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، جہاں علاج کے نام پر مریضوں کو صرف ریفرل سلپ تھما دینا ڈاکٹرز کی مجبوری ہے۔ عوامی حلقوں نے حکومت کو ایک حقیقت پسندانہ تجویز دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اربوں روپے کے بجٹ کے محتاج ٹراما سینٹر کے فنکسنل ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے، اگر موجودہ ہسپتال کو ہی اپ گریڈ کر دیا جائے تو قیمتی انسانی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔ اہلیانِ گوجرخان کا کہنا ہے کہ ٹراما سینٹر کو فعال کرنے کے لیے جس خطیر رقم اور طویل وقت کی ضرورت ہے، وہ شاید موجودہ معاشی حالات میں ممکن نہیں۔ لیکن اگر حکومت موجودہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ریڈیالوجسٹ، ایکسرے ٹیکنیشن اور نیورو سرجن کی خالی آسامیاں پر کر دے، اور ساتھ آئی سی یو، وینٹی لیٹر اور بچوں کی نرسری جیسی بنیادی سہولیات فراہم کر دی جائیں، تو ٹراما سینٹر کی ضرورت خود بخود ختم ہو جائے گی۔ ہسپتال کے انتظامی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے شہریوں نے بتایا کہ 2010 کے بعد سے لیبارٹری کے عملے میں ایک بھی اہلکار کا اضافہ نہیں کیا گیا، جبکہ کام کا بوجھ کئی سو گنا بڑھ چکا ہے۔ ہسپتال کے پاس وسیع و عریض رقبہ موجود ہے، جہاں نئی عمارتوں کی گنجائش بھی ہے، مگر ضرورت صرف منتخب عوامی نمائندوں کے اخلاص اور مخلصانہ کوششوں کی ہے۔ اگر ہمارے نمائندے ایوانوں میں آواز اٹھائیں تو ریفرل کے چکر میں راستے میں دم توڑنے والے مریضوں کے لواحقین کی بددعاؤں سے بچا جا سکتا ہے۔ گوجرخان کے باشعور شہریوں نے وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گوجرخان کو ضلع بنانے یا ٹراما سینٹر کے بڑے بجٹ جیسے طویل منصوبوں کے بجائے، فوری طور پر تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن کے لیے فنڈز جاری کریں۔ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹروں کی تعیناتی اور لیب کی جدید کاری سے نہ صرف جی ٹی روڈ کے حادثات میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد ملے گی، بلکہ زچہ و بچہ کو بھی راولپنڈی کے ہسپتالوں کے دھکے نہیں کھانے پڑیں گے۔ اب گیند حکومت اور مقامی سیاستدانوں کے کورٹ میں ہے۔ کیا وہ محض سیاسی نعروں سے عوام کو بہلاتے رہیں گے یا واقعی ہسپتال کی اپ گریڈیشن کر کے گوجرخان کے عوام کے ساتھ اپنی محبت کا ثبوت دیں گے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب گوجرخان کا ہر شہری ڈھونڈ رہا ہے۔

More posts