پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو نجی شعبے کے حوالے کیے جانے سے قبل ایک نہایت اہم مرحلے کا سامنا ہے، جہاں قومی ایئرلائن کا بین الاقوامی آپریشنل اور سیفٹی آڈٹ 8 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ ماہرین اس آڈٹ کو پی آئی اے کے لیے ایک اہم امتحان قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کے نتائج مستقبل میں ایئرلائن کی عالمی ساکھ اور نجکاری کے عمل پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیشنل ایئر ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن (آئی اے ٹی اے) کی خصوصی ٹیم سیفٹی آڈٹ کے لیے اتوار کو پاکستان پہنچے گی۔ یہ ٹیم مختلف شعبوں کا تفصیلی جائزہ لے گی اور بین الاقوامی حفاظتی معیار کے مطابق ایئرلائن کی کارکردگی کا تجزیہ کرے گی۔
اس بار پی آئی اے کا رسک بیسڈ آڈٹ کیا جائے گا، جسے ماضی کے مقابلے میں زیادہ سخت اور جامع قرار دیا جا رہا ہے۔ آڈٹ کے دوران ایئرلائن کے سیفٹی مینجمنٹ سسٹم، حفاظتی پالیسیوں، عمل درآمد کے طریقہ کار اور خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا۔
آئی اے ٹی اے کی ٹیم فلائٹ آپریشنز، انجینئرنگ، گراؤنڈ ہینڈلنگ، تکنیکی شعبوں اور دیگر اہم محکموں کی جانچ پڑتال کرے گی۔ اس عمل کے ذریعے یہ تعین کیا جائے گا کہ پی آئی اے بین الاقوامی حفاظتی معیارات پر کس حد تک پورا اترتی ہے اور اس کی عالمی درجہ بندی کیا ہونی چاہیے۔
دوسری جانب پی آئی اے انتظامیہ نے آڈٹ کی تیاریوں کو حتمی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ سی ای او پی آئی اے نے تمام شعبہ جات کو ہائی الرٹ رہنے اور مطلوبہ دستاویزات و ریکارڈ مکمل رکھنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
انتظامیہ کی جانب سے ملازمین کا ریکارڈ اپ ڈیٹ رکھنے، حفاظتی پالیسیوں کے مینوئلز پر نظرثانی کرنے اور تمام ضروری دستاویزات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ترتیب دینے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ آڈٹ نہ صرف پی آئی اے کی ساکھ کے لیے اہم ہے بلکہ نجکاری کے عمل میں دلچسپی رکھنے والے سرمایہ کاروں کے اعتماد کے لیے بھی فیصلہ کن کردار ادا کر سکتا ہے۔ کامیاب آڈٹ قومی ایئرلائن کے لیے عالمی سطح پر مثبت پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے۔
پی آئی اے کا اہم بین الاقوامی سیفٹی آڈٹ 8 جون سے شروع ہوگا
