نور مقدم کے والد شوکت مقدم نے صدرِ مملکت سے اپیل کی ہے کہ نور مقدم قتل کیس کے مجرم ظاہر جعفر کی ممکنہ رحم کی اپیل مسترد کی جائے اور عدالتوں کی جانب سے سنائی گئی سزا پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔
سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شوکت مقدم نے کہا کہ وہ صدرِ مملکت سے درخواست کریں گے کہ ظاہر جعفر کی رحم کی اپیل قبول نہ کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صدرِ مملکت خود بھی بیٹیوں کے والد ہیں اور انہیں اس معاملے کی حساسیت کا بخوبی اندازہ ہونا چاہیے۔
شوکت مقدم نے عدالتی فیصلے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرائل کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک انصاف کے حصول کی جدوجہد میں میڈیا نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسلسل توجہ اور رپورٹنگ کی وجہ سے یہ مقدمہ عوام کی نظروں میں رہا۔
انہوں نے ملک بھر کی خواتین اور بچیوں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ہمیشہ آواز بلند کرنی چاہیے اور اپنے حقوق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا چاہیے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نور مقدم قتل کیس میں مرکزی مجرم ظاہر جعفر کی نظرِ ثانی درخواست مسترد کرتے ہوئے سزائے موت برقرار رکھی ہے۔ یہ فیصلہ جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے متفقہ طور پر سنایا۔
سماعت کے دوران مجرم کے وکیل خواجہ حارث نے سزا میں نرمی کی درخواست کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ وقوعے اور ٹرائل کے دوران ان کے مؤکل کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ظاہر جعفر بائی پولر ڈس آرڈر، شیزوفرینیا اور ڈپریشن کی ادویات استعمال کرتا تھا اور انہی وجوہات کی بنیاد پر میڈیکل بورڈ تشکیل دینے کی درخواست بھی دی گئی تھی۔
تاہم عدالت نے ریمارکس دیے کہ فیصلے اخباری خبروں یا سوشل میڈیا کے دباؤ پر نہیں بلکہ شواہد اور قانون کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں۔ عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ میڈیکل بورڈ نہ بنائے جانے کے فیصلے کو ماضی میں چیلنج نہیں کیا گیا تھا، اس لیے وہ معاملہ قانونی طور پر طے ہو چکا ہے۔
نور مقدم قتل کیس پاکستان کے نمایاں مقدمات میں شمار ہوتا ہے جس نے ملک بھر میں خواتین کے تحفظ، انصاف کی فراہمی اور قانون کی عملداری پر اہم بحث کو جنم دیا تھا۔
نور مقدم کیس، شوکت مقدم نے رحم کی اپیل مسترد کرنے کا مطالبہ کر دیا
